أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أُمَّ شَرِيكٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْوِزْغَانِ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا "، وَأُمُّ شَرِيكٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ اتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ قَرِيبٌ مِنْهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوطاہر نے کہا: ہمیں ابن وہب نے بتایا کہا، مجھے ابن جریج نے خبر دی۔ اور محمد بن احمد بن ابی خلف نے کہا: ہمیں روح نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی۔ اور عبدبن حمید نے کہا: ہمیں محمد بن بکر نے بتایا، کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے عبدالحمید بن جبیر نے ام شریک رضی اللہ عنہا سے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چھپکلی کو مارنے کے متعلق آپ کا حکم پوچھا تو آپ نے اسے مار دینے کا حکم دیا۔ ام شریک رضی اللہ عنہا بنو عامر بن لؤی کی ایک خاتون تھیں (محمد بن احمد بن ابی خلف اور عبدبن حمید کی حدیث کے الفاظ ایک ہیں اور ابن وہب کی حدیث اس سے قریب ہے)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5843]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة