بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اجنبی عورت سے تنہائی کرنا اور اس کے پاس جانا حرام ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سلامتی اور صحت کا بیان باب: اجنبی عورت سے تنہائی کرنا اور اس کے پاس جانا حرام ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 2171 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، هُشَيْمٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، هُشَيْمٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ حُجْرٍ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سنو! کوئی شخص کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات کو نہ رہے، الا یہ کہ اس کا خاوند ہو یا محرم (غیر شادی شدہ عورت کے پاس رہنا اور زیادہ سختی سے ممنوع ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5673]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5673 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، هُشَيْمٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، هُشَيْمٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ حُجْرٍ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سنو! کوئی شخص کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات کو نہ رہے، الا یہ کہ اس کا خاوند ہو یا محرم (غیر شادی شدہ عورت کے پاس رہنا اور زیادہ سختی سے ممنوع ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5673]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2172 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ، قَالَ: " الْحَمْوُ الْمَوْتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم (اجنبی) عورتوں کے ہاں جانے سے بچو۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! دیور/جیٹھ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دیور/جیٹھ تو موت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5674]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5674 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ، قَالَ: " الْحَمْوُ الْمَوْتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم (اجنبی) عورتوں کے ہاں جانے سے بچو۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! دیور/جیٹھ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دیور/جیٹھ تو موت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5674]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2172 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيح
وحدثني أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيح ، وَغَيْرِهِمْ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث، لیث بن سعد اور حیوہ بن شریح وغیرہ سے روایت کی کہ یزید بن ابی حبیب نے انہیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5675]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5675 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيح
وحدثني أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيح ، وَغَيْرِهِمْ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث، لیث بن سعد اور حیوہ بن شریح وغیرہ سے روایت کی کہ یزید بن ابی حبیب نے انہیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5675]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2172 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال: وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يقول: " الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن وہب نے کہا: میں نے لیث بن سعد سے سنا، کہہ رہے تھے: «حمو» (دیور/جیٹھ) خاوند کا بھائی ہے یا خاوند کے رشتہ داروں میں اس جیسا رشتہ رکھنے والا، مثلاً: اس کا چچا زاد وغیرہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5676]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5676 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال: وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يقول: " الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن وہب نے کہا: میں نے لیث بن سعد سے سنا، کہہ رہے تھے: «حمو» (دیور/جیٹھ) خاوند کا بھائی ہے یا خاوند کے رشتہ داروں میں اس جیسا رشتہ رکھنے والا، مثلاً: اس کا چچا زاد وغیرہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5676]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2173 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ، فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمن بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انہیں ناگوار گزرا۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتائی، ساتھ ہی کہا: میں نے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (بھی) انہیں (حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو) اس سے بری قرار دیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5677]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5677 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ، فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمن بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انہیں ناگوار گزرا۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتائی، ساتھ ہی کہا: میں نے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (بھی) انہیں (حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو) اس سے بری قرار دیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5677]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة