بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عورتوں کو ضروری حاجت کے لیے باہر نکلنا درست ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سلامتی اور صحت کا بیان باب: عورتوں کو ضروری حاجت کے لیے باہر نکلنا درست ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 2170 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ يَا سَوْدَةُ: وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ؟ قَالَتْ: فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم في بيتي، وإنه ليتعشى وفي يده عرق فدخلت، فقالت: يا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَر ُ كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ: فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ، وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا، زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي الْبَرَازَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: پردہ ہم پر لاگو ہو جانے کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جسامت میں بڑی تھیں، جسمانی طور پر عورتوں سے اونچی (نظر آتی) تھیں۔ جو شخص انہیں جانتا ہو (پردے کے باوجود) اس کے لیے مخفی نہیں رہتی تھی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر کہا: سودہ! اللہ کی قسم! آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لیے دیکھ لیجیے آپ کیسے باہر نکلا کریں گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: حضرت سودہ رضی اللہ عنہا (یہ سنتے ہی) الٹے پاؤں لوٹ آئیں اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ہاں رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ آپ کے دست مبارک میں گوشت والی ایک ہڈی تھی وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں باہر نکلی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس طرح کہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل فرمائی، پھر آپ سے وحی کی کیفیت زائل ہو گئی، ہڈی اسی طرح آپ کے ہاتھ میں تھی، آپ نے اسے رکھا نہیں تھا، آپ نے فرمایا: تم سب (امہات المومنین) کو اجازت دے دی گئی ہے کہ تم ضرورت کے لیے باہر جا سکتی ہو۔ ابوبکر (ابن ابی شیبہ) کی روایت میں ہے: ان کا جسم عورتوں سے اونچا تھا۔ ابوبکر نے اپنی حدیث (کی سند) میں یہ اضافہ کیا: تو ہشام نے کہا: آپ کا مقصود قضائے حاجت کے لیے جانے سے تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5668]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5668 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ يَا سَوْدَةُ: وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ؟ قَالَتْ: فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم في بيتي، وإنه ليتعشى وفي يده عرق فدخلت، فقالت: يا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَر ُ كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ: فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ، وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا، زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي الْبَرَازَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: پردہ ہم پر لاگو ہو جانے کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جسامت میں بڑی تھیں، جسمانی طور پر عورتوں سے اونچی (نظر آتی) تھیں۔ جو شخص انہیں جانتا ہو (پردے کے باوجود) اس کے لیے مخفی نہیں رہتی تھی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر کہا: سودہ! اللہ کی قسم! آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لیے دیکھ لیجیے آپ کیسے باہر نکلا کریں گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: حضرت سودہ رضی اللہ عنہا (یہ سنتے ہی) الٹے پاؤں لوٹ آئیں اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ہاں رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ آپ کے دست مبارک میں گوشت والی ایک ہڈی تھی وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں باہر نکلی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس طرح کہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل فرمائی، پھر آپ سے وحی کی کیفیت زائل ہو گئی، ہڈی اسی طرح آپ کے ہاتھ میں تھی، آپ نے اسے رکھا نہیں تھا، آپ نے فرمایا: تم سب (امہات المومنین) کو اجازت دے دی گئی ہے کہ تم ضرورت کے لیے باہر جا سکتی ہو۔ ابوبکر (ابن ابی شیبہ) کی روایت میں ہے: ان کا جسم عورتوں سے اونچا تھا۔ ابوبکر نے اپنی حدیث (کی سند) میں یہ اضافہ کیا: تو ہشام نے کہا: آپ کا مقصود قضائے حاجت کے لیے جانے سے تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5668]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2170 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: وَكَانَتِ امْرَأَةً يَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُهَا، قَالَ: وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر نے کہا: ہشام نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: وہ ایسی خاتون تھیں کہ ان کا جسم لوگوں سے اونچا (نظر آتا) تھا۔ (یہ بھی) کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5669]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5669 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: وَكَانَتِ امْرَأَةً يَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُهَا، قَالَ: وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر نے کہا: ہشام نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: وہ ایسی خاتون تھیں کہ ان کا جسم لوگوں سے اونچا (نظر آتا) تھا۔ (یہ بھی) کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5669]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2170 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامٍ
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5670]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5670 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامٍ
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5670]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2170 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَح، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْجُبْ نِسَاءَكَ، فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً، فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج جب رات کو قضائے حاجت کے لیے باہر نکلتیں تو المناصع کی طرف جاتی تھیں، وہ دور ایک کھلی، بڑی جگہ ہے۔ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ عرض کرتے رہتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کسی حکمت کی بنا پر) ایسا نہیں کرتے تھے، پھر ایک رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عشاء کے وقت (قضائے حاجت کے لیے) باہر نکلیں، وہ دراز قد خاتون تھیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس حرص میں کہ حجاب نازل ہو جائے، پکار کر ان سے کہا: سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے حجاب نازل فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5671]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5671 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَح، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْجُبْ نِسَاءَكَ، فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً، فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج جب رات کو قضائے حاجت کے لیے باہر نکلتیں تو المناصع کی طرف جاتی تھیں، وہ دور ایک کھلی، بڑی جگہ ہے۔ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ عرض کرتے رہتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کسی حکمت کی بنا پر) ایسا نہیں کرتے تھے، پھر ایک رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عشاء کے وقت (قضائے حاجت کے لیے) باہر نکلیں، وہ دراز قد خاتون تھیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس حرص میں کہ حجاب نازل ہو جائے، پکار کر ان سے کہا: سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے حجاب نازل فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5671]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2170 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أبى ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أبى عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5672]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5672 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أبى ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أبى عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5672]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة