بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بچہ کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنے کا اور دوسری چیزوں کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم معاشرتی آداب کا بیان باب: بچہ کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنے کا اور دوسری چیزوں کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 2144 صحیح مسلم
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ، فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ، فَمَجَّهُ فِي فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب عبداللہ بن ابی طلحہ پیدا ہوئے تو میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دھاری دار عبا (چادر) زیب تن فرمائے اپنے ایک اونٹ کو (خارش سے نجات دلانے کے لیے) گندھک (یا کول تار) لگا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کچھ کھجور ساتھ ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، پھر میں نے آپ کو کچھ کھجوریں پیش کیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا، انہیں چبایا، پھر بچے کا منہ کھول کر ان کو اپنے دہن مبارک سے براہ راست اس کے منہ میں ڈال دیا۔ بچے نے زبان ہلا کر اس کا ذائقہ لینا شروع کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ انصار کی کھجوروں سے محبت ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5612]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5612 صحیح مسلم
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ، فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ، فَمَجَّهُ فِي فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب عبداللہ بن ابی طلحہ پیدا ہوئے تو میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دھاری دار عبا (چادر) زیب تن فرمائے اپنے ایک اونٹ کو (خارش سے نجات دلانے کے لیے) گندھک (یا کول تار) لگا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کچھ کھجور ساتھ ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، پھر میں نے آپ کو کچھ کھجوریں پیش کیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا، انہیں چبایا، پھر بچے کا منہ کھول کر ان کو اپنے دہن مبارک سے براہ راست اس کے منہ میں ڈال دیا۔ بچے نے زبان ہلا کر اس کا ذائقہ لینا شروع کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ انصار کی کھجوروں سے محبت ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5612]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2144 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هُوَ أَسْكَنُ مِمَّا كَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَتْ: وَارُوا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا "، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَمَعَهُ شَيْءٌ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ، فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ثُمَّ حَنَّكَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ابن عون نے ابن سیرین سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا، وہ باہر گئے ہوئے تھے کہ وہ لڑکا فوت ہو گیا۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے پوچھا کہ میرا بچہ کیسا ہے؟ (ان کی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب پہلے کی نسبت اس کو آرام ہے (یہ موت کی طرف اشارہ ہے اور کچھ جھوٹ بھی نہیں)۔ پھر ام سلیم شام کا کھانا ان کے پاس لائیں تو انہوں نے کھایا۔ اس کے بعد ام سلیم سے صحبت کی۔ جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا کہ جاؤ بچہ کو دفن کر دو۔ پھر صبح کو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب حال بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے رات کو اپنی بیوی سے صحبت کی تھی؟ ابوطلحہ نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ان دونوں کو برکت دے۔ پھر ام سلیم کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے جا اور ام سلیم نے بچے کے ساتھ تھوڑی کھجوریں بھی بھیجیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بچے کو لے لیا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ کچھ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ کھجوریں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجوروں کو لے کر چبایا، پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال کر اسے گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5613]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5613 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هُوَ أَسْكَنُ مِمَّا كَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَتْ: وَارُوا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا "، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَمَعَهُ شَيْءٌ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ، فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ثُمَّ حَنَّكَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ابن عون نے ابن سیرین سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا، وہ باہر گئے ہوئے تھے کہ وہ لڑکا فوت ہو گیا۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے پوچھا کہ میرا بچہ کیسا ہے؟ (ان کی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب پہلے کی نسبت اس کو آرام ہے (یہ موت کی طرف اشارہ ہے اور کچھ جھوٹ بھی نہیں)۔ پھر ام سلیم شام کا کھانا ان کے پاس لائیں تو انہوں نے کھایا۔ اس کے بعد ام سلیم سے صحبت کی۔ جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا کہ جاؤ بچہ کو دفن کر دو۔ پھر صبح کو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب حال بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے رات کو اپنی بیوی سے صحبت کی تھی؟ ابوطلحہ نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ان دونوں کو برکت دے۔ پھر ام سلیم کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے جا اور ام سلیم نے بچے کے ساتھ تھوڑی کھجوریں بھی بھیجیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بچے کو لے لیا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ کچھ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ کھجوریں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجوروں کو لے کر چبایا، پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال کر اسے گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5613]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2144 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن مسعدہ نے کہا: ہمیں ابن عون نے محمد (ابن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی قصے کے ساتھ یزید کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5614]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5614 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن مسعدہ نے کہا: ہمیں ابن عون نے محمد (ابن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی قصے کے ساتھ یزید کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5614]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2145 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قال: " وُلِدَ لِي غُلَامٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو ایک کھجور (کے دانے) سے گھٹی دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5615]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5615 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قال: " وُلِدَ لِي غُلَامٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو ایک کھجور (کے دانے) سے گھٹی دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5615]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2146 صحیح مسلم
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِح ، شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِح ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أنهما قَالَا: " خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْر، فَقَدِمَتْ قُبَاءً، فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا، فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ، فَإِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ: ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ، لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ مُقْبِلًا إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعیب بن اسحاق نے کہا: مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا، کہا: مجھے عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا (مکہ سے) ہجرت کی نیت سے جس وقت نکلیں، ان کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر تھے (یعنی حاملہ تھیں) جب وہ قباء میں آ کر اتریں تو وہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے۔ پھر ولادت کے بعد انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو گھٹی لگائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھایا، پھر ایک کھجور منگوائی۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے، آخر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجور کو چبایا، پھر (اس کا جوس) ان کے منہ میں ڈال دیا۔ یہی پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں پہنچی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تھوک تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے اشارے پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کے لیے آئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا۔ پھر ان سے (برکت کے لیے) بیعت کی (کیونکہ وہ کمسن تھے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5616]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5616 صحیح مسلم
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِح ، شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِح ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أنهما قَالَا: " خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْر، فَقَدِمَتْ قُبَاءً، فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا، فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ، فَإِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ: ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ، لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ مُقْبِلًا إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعیب بن اسحاق نے کہا: مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا، کہا: مجھے عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا (مکہ سے) ہجرت کی نیت سے جس وقت نکلیں، ان کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر تھے (یعنی حاملہ تھیں) جب وہ قباء میں آ کر اتریں تو وہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے۔ پھر ولادت کے بعد انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو گھٹی لگائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھایا، پھر ایک کھجور منگوائی۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے، آخر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجور کو چبایا، پھر (اس کا جوس) ان کے منہ میں ڈال دیا۔ یہی پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں پہنچی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تھوک تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے اشارے پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کے لیے آئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا۔ پھر ان سے (برکت کے لیے) بیعت کی (کیونکہ وہ کمسن تھے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5616]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2146 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، قالت: " فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ، فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ مکہ میں حاملہ ہوئیں، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پیٹ میں تھے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب میں (مکہ سے) نکلی تو میں پورے دنوں سے تھی، پھر میں مدینہ آئی اور قباء میں ٹھہری اور قباء میں نے اسے (عبداللہ) کو جنم دیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے اپنی گود میں لے لیا، پھر آپ نے کھجور منگوائی، اسے چبایا۔ پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا، پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لعاب دہن تھا، پھر آپ نے (چبائی ہوئی) کھجور کی گھٹی اس کے تالو کو لگائی، پھر اس کے لیے دعا کی، برکت مانگی، (ہجرت مدینہ کے بعد) یہ پہلا بچہ تھا جو اسلام میں پیدا ہوا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5617]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5617 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، قالت: " فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ، فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ مکہ میں حاملہ ہوئیں، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پیٹ میں تھے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب میں (مکہ سے) نکلی تو میں پورے دنوں سے تھی، پھر میں مدینہ آئی اور قباء میں ٹھہری اور قباء میں نے اسے (عبداللہ) کو جنم دیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے اپنی گود میں لے لیا، پھر آپ نے کھجور منگوائی، اسے چبایا۔ پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا، پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لعاب دہن تھا، پھر آپ نے (چبائی ہوئی) کھجور کی گھٹی اس کے تالو کو لگائی، پھر اس کے لیے دعا کی، برکت مانگی، (ہجرت مدینہ کے بعد) یہ پہلا بچہ تھا جو اسلام میں پیدا ہوا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5617]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2146 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہجرت کی، اس وقت وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے حاملہ تھیں، پھر ابواسامہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5618]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5618 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہجرت کی، اس وقت وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے حاملہ تھیں، پھر ابواسامہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5618]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2147 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے، آپ ان کے لیے برکت کی دعا کرتے اور انہیں گھٹی دیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5619]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5619 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے، آپ ان کے لیے برکت کی دعا کرتے اور انہیں گھٹی دیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5619]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2148 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: " جِئْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، فَطَلَبْنَا تَمْرَةً فَعَزَّ عَلَيْنَا طَلَبُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: ہم گھٹی دلوانے کے لیے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے گئے، ہم نے کھجور حاصل کرنی چاہی تو ہمارے لیے اس کا حصول دشوار ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5620]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5620 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: " جِئْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، فَطَلَبْنَا تَمْرَةً فَعَزَّ عَلَيْنَا طَلَبُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: ہم گھٹی دلوانے کے لیے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے گئے، ہم نے کھجور حاصل کرنی چاہی تو ہمارے لیے اس کا حصول دشوار ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5620]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2149 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قال: أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِهِ، وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ فَلَهِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ، فَاحْتُمِلَ مِنْ عَلَى فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْلَبُوهُ فَاسْتَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيْنَ الصَّبِيُّ؟ "، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " مَا اسْمُهُ؟ "، قَالَ: فُلَانٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ "، فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِر َ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت سہل بن سعد (بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، کہا: کہ ابواسید رضی اللہ عنہ کا بیٹا منذر، جب پیدا ہوا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو اپنی ران پر رکھا اور (اس کے والد) ابواسید بیٹھے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز میں اپنے سامنے متوجہ ہوئے تو ابواسید نے حکم دیا تو وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ران پر سے اٹھا لیا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیال آیا تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم نے اس کو اٹھا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا نام کیا ہے؟ ابواسید نے کہا کہ فلاں نام ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس کا نام منذر ہے۔ پھر اس دن سے انہوں نے اس کا نام منذر ہی رکھ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5621]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5621 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قال: أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِهِ، وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ فَلَهِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ، فَاحْتُمِلَ مِنْ عَلَى فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْلَبُوهُ فَاسْتَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيْنَ الصَّبِيُّ؟ "، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " مَا اسْمُهُ؟ "، قَالَ: فُلَانٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ "، فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِر َ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت سہل بن سعد (بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، کہا: کہ ابواسید رضی اللہ عنہ کا بیٹا منذر، جب پیدا ہوا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو اپنی ران پر رکھا اور (اس کے والد) ابواسید بیٹھے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز میں اپنے سامنے متوجہ ہوئے تو ابواسید نے حکم دیا تو وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ران پر سے اٹھا لیا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیال آیا تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم نے اس کو اٹھا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا نام کیا ہے؟ ابواسید نے کہا کہ فلاں نام ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس کا نام منذر ہے۔ پھر اس دن سے انہوں نے اس کا نام منذر ہی رکھ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5621]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة