بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم لباس اور زینت کے احکام باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 2122 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قالت: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ؟، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے فاطمہ بنت منذر رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی دلہن ہے۔ اسے خسرہ (بعض روایات میں چیچک) نکلا تھا تو اس کے بال جھڑ گئے ہیں کیا میں (اس کے بالوں کے ساتھ) دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی (دونوں) پر لعنت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5565]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5565 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قالت: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ؟، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے فاطمہ بنت منذر رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی دلہن ہے۔ اسے خسرہ (بعض روایات میں چیچک) نکلا تھا تو اس کے بال جھڑ گئے ہیں کیا میں (اس کے بالوں کے ساتھ) دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی (دونوں) پر لعنت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5565]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2122 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، وَعَبْدَةُ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَكِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر، عبدہ، وکیع اور شعبہ سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابومعاویہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی، مگر وکیع اور شعبہ نے اپنی روایت میں (اس کے بال چھدرے ہو گئے ہیں) کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5566]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5566 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، وَعَبْدَةُ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَكِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر، عبدہ، وکیع اور شعبہ سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابومعاویہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی، مگر وکیع اور شعبہ نے اپنی روایت میں (اس کے بال چھدرے ہو گئے ہیں) کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5566]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2122 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَبَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مَنْصُورٌ ، أُمِّهِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَنَهَاهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، اس کے بال جھڑ گئے ہیں، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5567]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5567 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَبَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مَنْصُورٌ ، أُمِّهِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَنَهَاهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، اس کے بال جھڑ گئے ہیں، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5567]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2123 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، شُعْبَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ: " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن مرہ نے کہا: میں نے حسن بن مسلم سے سنا، وہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تھی جس سے اس کے بال جھڑ گئے تھے ان لوگوں نے اس کے بالوں کے ساتھ بال جوڑنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور جوڑ لگوانے والی (دونوں) پر لعنت فرمائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5568]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5568 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، شُعْبَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ: " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن مرہ نے کہا: میں نے حسن بن مسلم سے سنا، وہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تھی جس سے اس کے بال جھڑ گئے تھے ان لوگوں نے اس کے بالوں کے ساتھ بال جوڑنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور جوڑ لگوانے والی (دونوں) پر لعنت فرمائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5568]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2123 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا، فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُعِنَ الْوَاصِلَاتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی، کہا: مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تو اس کے بال جھڑ گئے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتا ہے، کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگاؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5569]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5569 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا، فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُعِنَ الْوَاصِلَاتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی، کہا: مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تو اس کے بال جھڑ گئے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتا ہے، کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگاؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5569]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2123 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن مہدی نے ابراہیم بن نافع سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: جوڑ لگانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5570]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5570 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن مہدی نے ابراہیم بن نافع سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: جوڑ لگانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5570]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2124 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جوڑ لگانے والی، جوڑ لگوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5571]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5571 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جوڑ لگانے والی، جوڑ لگوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5571]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2124 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صخر بن جویریہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5572]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5572 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صخر بن جویریہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5572]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2125 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، واللفظ لإسحاق، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالنَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ "، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ، فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ الْآنَ، قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، قَالَ: فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، فَقَالَ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ نُجَامِعْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لیے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں، اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعنت کی اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے؟ وہ عورت بولی کہ میں تو دو جلدوں میں جس قدر قرآن تھا، پڑھ ڈالا لیکن مجھے نہیں ملا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ ’جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں بتلائیں اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو‘ (الحشر: 7) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعض باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کے ساتھ مل کر نہ رہتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5573]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5573 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، واللفظ لإسحاق، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالنَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ "، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ، فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ الْآنَ، قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، قَالَ: فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، فَقَالَ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ نُجَامِعْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لیے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں، اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعنت کی اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے؟ وہ عورت بولی کہ میں تو دو جلدوں میں جس قدر قرآن تھا، پڑھ ڈالا لیکن مجھے نہیں ملا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ ’جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں بتلائیں اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو‘ (الحشر: 7) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعض باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کے ساتھ مل کر نہ رہتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5573]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2125 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهِلٍ ، مَنْصُورٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهِلٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَفِي حَدِيثِ مُفَضَّلٍ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمَوْشُومَاتِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان اور مفضل بن مہلہل دونوں نے منصور سے، اسی سند میں جریر کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی مگر سفیان کی حدیث میں: (گودنے والیاں اور گدوانے والیاں) ہے، جبکہ مفضل کی روایت میں (گودنے والیاں اور جن (کے جسم) پر گودا جاتا ہے) کے الفاظ ہیں۔ (مقصود ایک ہی ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5574]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5574 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهِلٍ ، مَنْصُورٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهِلٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَفِي حَدِيثِ مُفَضَّلٍ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمَوْشُومَاتِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان اور مفضل بن مہلہل دونوں نے منصور سے، اسی سند میں جریر کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی مگر سفیان کی حدیث میں: (گودنے والیاں اور گدوانے والیاں) ہے، جبکہ مفضل کی روایت میں (گودنے والیاں اور جن (کے جسم) پر گودا جاتا ہے) کے الفاظ ہیں۔ (مقصود ایک ہی ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5574]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة