أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَبَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مَنْصُورٌ ، أُمِّهِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَنَهَاهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، اس کے بال جھڑ گئے ہیں، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5567]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة