بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لہسن کھانا درست ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مشروبات کا بیان باب: لہسن کھانا درست ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 2053 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ، وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِفَضْلَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا، لِأَنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهُ أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ "، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی کھانا لایا جاتا تو آپ اس میں سے تناول فرماتے اور جو بچ جاتا اسے میرے پاس بھیج دیتے ایک دن آپ نے میرے پاس بچا ہوا کھانا بھیجا جس میں سے آپ نے خود کچھ نہیں کھایا تھا کیونکہ اس میں (کچا) لہسن تھا میں نے آپ سے پوچھا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں لیکن میں اس کی بد بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی: جو آپ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5356]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5356 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ، وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِفَضْلَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا، لِأَنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهُ أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ "، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی کھانا لایا جاتا تو آپ اس میں سے تناول فرماتے اور جو بچ جاتا اسے میرے پاس بھیج دیتے ایک دن آپ نے میرے پاس بچا ہوا کھانا بھیجا جس میں سے آپ نے خود کچھ نہیں کھایا تھا کیونکہ اس میں (کچا) لہسن تھا میں نے آپ سے پوچھا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں لیکن میں اس کی بد بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی: جو آپ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5356]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2053 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5357]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5357 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5357]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2053 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، أَبُو النُّعْمَانِ ، ثَابِتٌ ، عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَفْلَحَ ، أَبِي أَيُّوبَ
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، وَاللَّفْظُ مِنْهُمَا قَرِيبٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، فِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَل، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّفْلِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعِلْوِ، قَالَ: فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً، فَقَالَ: نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحَّوْا فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السُّفْلُ أَرْفَقُ "، فَقَالَ: لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا، فَتَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ، وَأَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ، فَكَانَ يَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَإِذَا جِيءَ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِهِ، فَيَتَتَبَّعُ مَوْضِعَ أَصَابِعِهِ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ، فَلَمَّا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ لَمْ يَأْكُلْ فَفَزِعَ، وَصَعِدَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ "، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَ. قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام افلح نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ہاں مہمان ٹھہرے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے کے مکان میں رہے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کے درجے میں تھے۔ ایک دفعہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں، پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اوپر جانے کے لیے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نیچے کا مکان آرام کا ہے (رہنے والوں کے لیے اور آنے والوں کے لیے اور اسی لیے رسول اللہ نیچے کے مکان میں رہتے تھے)۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اوپر کے درجے میں تشریف لے گئے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آ گئے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھانا آتا (اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے کھاتے اور اس کے بعد بچا ہوا کھانا واپس جاتا) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ (آدمی سے) پوچھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیاں کھانے کی کس جگہ پر لگی ہیں اور وہ وہیں سے (برکت کے لیے) کھاتے۔ ایک دن سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا، جس میں لہسن تھا۔ جب کھانا واپس گیا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیاں کہاں لگی تھیں؟ انہیں بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانا نہیں کھایا۔ یہ سن کر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور اوپر گئے اور پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا جو چیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ناپسند ہے، مجھے بھی ناپسند ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس (فرشتے) آتے تھے (اور فرشتوں کو لہسن کی بو سے تکلیف ہوتی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ کھاتے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5358]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5358 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، أَبُو النُّعْمَانِ ، ثَابِتٌ ، عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَفْلَحَ ، أَبِي أَيُّوبَ
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، وَاللَّفْظُ مِنْهُمَا قَرِيبٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، فِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَل، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّفْلِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعِلْوِ، قَالَ: فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً، فَقَالَ: نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحَّوْا فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السُّفْلُ أَرْفَقُ "، فَقَالَ: لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا، فَتَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ، وَأَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ، فَكَانَ يَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَإِذَا جِيءَ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِهِ، فَيَتَتَبَّعُ مَوْضِعَ أَصَابِعِهِ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ، فَلَمَّا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ لَمْ يَأْكُلْ فَفَزِعَ، وَصَعِدَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ "، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَ. قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام افلح نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ہاں مہمان ٹھہرے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے کے مکان میں رہے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کے درجے میں تھے۔ ایک دفعہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں، پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اوپر جانے کے لیے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نیچے کا مکان آرام کا ہے (رہنے والوں کے لیے اور آنے والوں کے لیے اور اسی لیے رسول اللہ نیچے کے مکان میں رہتے تھے)۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اوپر کے درجے میں تشریف لے گئے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آ گئے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھانا آتا (اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے کھاتے اور اس کے بعد بچا ہوا کھانا واپس جاتا) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ (آدمی سے) پوچھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیاں کھانے کی کس جگہ پر لگی ہیں اور وہ وہیں سے (برکت کے لیے) کھاتے۔ ایک دن سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا، جس میں لہسن تھا۔ جب کھانا واپس گیا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیاں کہاں لگی تھیں؟ انہیں بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانا نہیں کھایا۔ یہ سن کر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور اوپر گئے اور پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا جو چیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ناپسند ہے، مجھے بھی ناپسند ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس (فرشتے) آتے تھے (اور فرشتوں کو لہسن کی بو سے تکلیف ہوتی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ کھاتے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5358]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة