مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ، وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِفَضْلَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا، لِأَنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهُ أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ "، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی کھانا لایا جاتا تو آپ اس میں سے تناول فرماتے اور جو بچ جاتا اسے میرے پاس بھیج دیتے ایک دن آپ نے میرے پاس بچا ہوا کھانا بھیجا جس میں سے آپ نے خود کچھ نہیں کھایا تھا کیونکہ اس میں (کچا) لہسن تھا میں نے آپ سے پوچھا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں لیکن میں اس کی بد بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔“ میں نے عرض کی: جو آپ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5356]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة