بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مجاہدیں کی عورتوں کی حرمت کا بیان اور ان میں خیانت کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم امور حکومت کا بیان باب: مجاہدیں کی عورتوں کی حرمت کا بیان اور ان میں خیانت کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 1897 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ، كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ، فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ، فَمَا ظَنُّكُمْ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان (ثوری) نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گھر میں بیٹھنے والوں کے لیے مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی ماؤں کی حرمت و عزت ہے۔ اور گھروں میں بیٹھنے والوں میں سے جو بھی شخص مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے، پھر ان کے معاملے میں ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے (پوری طرح دیکھ بھال نہیں کرتا) تو اس کو قیامت کے دن اس (مجاہد) کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ اس کے عمل میں سے جتنا چاہے گا لے لے گا، اب تمہارا (اس سزا کے بارے میں) کیا خیال ہے؟ (کوتاہی کرنے والے نے مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی کر کے نیک اعمال بھی کیے ہوں گے تو وہ اس سے چھن جائیں گے اور ہو سکتا ہے اس کے پاس کچھ بھی نہ بچے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4908]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4908 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ، كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ، فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ، فَمَا ظَنُّكُمْ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان (ثوری) نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گھر میں بیٹھنے والوں کے لیے مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی ماؤں کی حرمت و عزت ہے۔ اور گھروں میں بیٹھنے والوں میں سے جو بھی شخص مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے، پھر ان کے معاملے میں ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے (پوری طرح دیکھ بھال نہیں کرتا) تو اس کو قیامت کے دن اس (مجاہد) کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ اس کے عمل میں سے جتنا چاہے گا لے لے گا، اب تمہارا (اس سزا کے بارے میں) کیا خیال ہے؟ (کوتاہی کرنے والے نے مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی کر کے نیک اعمال بھی کیے ہوں گے تو وہ اس سے چھن جائیں گے اور ہو سکتا ہے اس کے پاس کچھ بھی نہ بچے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4908]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1897 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، مِسْعَرٌ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَال يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مسعر نے ہمیں علقمہ بن مرثد سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (پھر سفیان) ثوری کی حدیث کے ہم معنی (حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4909]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4909 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، مِسْعَرٌ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَال يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مسعر نے ہمیں علقمہ بن مرثد سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (پھر سفیان) ثوری کی حدیث کے ہم معنی (حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4909]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1897 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، قَعْنَبٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ
وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَعْنَبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَقَالَ: فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَمَا ظَنُّكُمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قعنب نے علقمہ بن مرثد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی: اور فرمایا: (اسے کہا جائے گا کہ) تم اس کی نیکیوں میں سے جو چاہو لے لو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیا سمجھتے ہو؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4910]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4910 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، قَعْنَبٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ
وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَعْنَبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَقَالَ: فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَمَا ظَنُّكُمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قعنب نے علقمہ بن مرثد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی: اور فرمایا: (اسے کہا جائے گا کہ) تم اس کی نیکیوں میں سے جو چاہو لے لو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیا سمجھتے ہو؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4910]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة