بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کافر سے جہاد میں مدد لینا منع ہے مگر ضرورت سے جائز ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے باب: کافر سے جہاد میں مدد لینا منع ہے مگر ضرورت سے جائز ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1817 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ بَدْرٍ، فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ، فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ، فَلَمَّا أَدْرَكَهُ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جِئْتُ لِأَتَّبِعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ، قَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ، قَالَتْ: ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ: كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، قَالَ: فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ: كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَانْطَلِقْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدر کی جانب نکلے، جب آپ وبرہ کے حرے پر پہنچے تو ایک آدمی آ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملا۔ اس کی جرات و بہادری کا بڑا چرچا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ نے اسے دیکھا تو خوش ہوئے، جب وہ آپ کو ملا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ کا ساتھ دوں اور آپ کے ساتھ (غنیمت میں سے) حصہ وصول کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: پھر وہ چلا گیا، حتی کہ جب ہم درخت کے پاس پہنچے تو وہ آدمی (دوسری بار) آپ کو ملا اور آپ سے وہی بات کہی جو پہلی مرتبہ کہی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس سے وہی کچھ کہا جو پہلی مرتبہ کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واپس ہو جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔ کہا: وہ واپس چلا گیا اور بیداء کے مقام پر آپ کو ملا تو آپ نے اس سے وہی بات پوچھی جو پہلی بار پوچھی تھی: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو پھر (ہمارے ساتھ) چلو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4700]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4700 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ بَدْرٍ، فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ، فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ، فَلَمَّا أَدْرَكَهُ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جِئْتُ لِأَتَّبِعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ، قَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ، قَالَتْ: ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ: كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، قَالَ: فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ: كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَانْطَلِقْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدر کی جانب نکلے، جب آپ وبرہ کے حرے پر پہنچے تو ایک آدمی آ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملا۔ اس کی جرات و بہادری کا بڑا چرچا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ نے اسے دیکھا تو خوش ہوئے، جب وہ آپ کو ملا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ کا ساتھ دوں اور آپ کے ساتھ (غنیمت میں سے) حصہ وصول کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: پھر وہ چلا گیا، حتی کہ جب ہم درخت کے پاس پہنچے تو وہ آدمی (دوسری بار) آپ کو ملا اور آپ سے وہی بات کہی جو پہلی مرتبہ کہی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس سے وہی کچھ کہا جو پہلی مرتبہ کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واپس ہو جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔ کہا: وہ واپس چلا گیا اور بیداء کے مقام پر آپ کو ملا تو آپ نے اس سے وہی بات پوچھی جو پہلی بار پوچھی تھی: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو پھر (ہمارے ساتھ) چلو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4700]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة