بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ذات الرقاع کے جہاد کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے باب: ذات الرقاع کے جہاد کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1816 صحیح مسلم
أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، قَالَ: فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا، فَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ "، لِمَا كُنَّا نُعَصِّبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ، قَالَ: كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللَّهُ يُجْزِي بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہمیں بریدہ بن ابی بردہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، ہم چھ افراد تھے، ہم سب کے لیے اونٹ ایک (ہی) تھا، ہم اس پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ کہا: ہمارے پیروں میں سوراخ ہو گئے، میرے دونوں پاؤں بھی زخمی ہو گئے اور میرے ناخن گر گئے، ہم اپنے پاؤں پر پھٹے پرانے کپڑوں کی دھجیاں باندھا کرتے تھے، اسی وجہ سے اس غزوے کا نام ذات الرقاع (دھجیوں والا غزوہ) پڑ گیا کیونکہ ہم اپنے پیروں پر پھٹے پرانے کپڑوں کی دھجیاں باندھا کرتے تھے۔ ابوبردہ نے کہا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی، پھر اسے (بیان کرنے) کو ناپسند کیا جیسے وہ یہ بات ناپسند کرتے ہوں کہ ان کے عمل کا کوئی ایسا پہلو ہو جس کی انہوں نے تشہیر کی ہو۔ ابواسامہ نے کہا: بریدہ کے علاوہ کسی اور نے مجھے مزید یہ بات بتائی: اور اللہ اس کی جزا دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4699]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4699 صحیح مسلم
أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، قَالَ: فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا، فَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ "، لِمَا كُنَّا نُعَصِّبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ، قَالَ: كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللَّهُ يُجْزِي بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہمیں بریدہ بن ابی بردہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، ہم چھ افراد تھے، ہم سب کے لیے اونٹ ایک (ہی) تھا، ہم اس پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ کہا: ہمارے پیروں میں سوراخ ہو گئے، میرے دونوں پاؤں بھی زخمی ہو گئے اور میرے ناخن گر گئے، ہم اپنے پاؤں پر پھٹے پرانے کپڑوں کی دھجیاں باندھا کرتے تھے، اسی وجہ سے اس غزوے کا نام ذات الرقاع (دھجیوں والا غزوہ) پڑ گیا کیونکہ ہم اپنے پیروں پر پھٹے پرانے کپڑوں کی دھجیاں باندھا کرتے تھے۔ ابوبردہ نے کہا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی، پھر اسے (بیان کرنے) کو ناپسند کیا جیسے وہ یہ بات ناپسند کرتے ہوں کہ ان کے عمل کا کوئی ایسا پہلو ہو جس کی انہوں نے تشہیر کی ہو۔ ابواسامہ نے کہا: بریدہ کے علاوہ کسی اور نے مجھے مزید یہ بات بتائی: اور اللہ اس کی جزا دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4699]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة