بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عورتوں کا مردوں کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے باب: عورتوں کا مردوں کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 1809 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا، فَكَانَ مَعَهَا، فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذَا الْخِنْجَرُ؟، قَالَتْ: اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک خنجر (اپنے پاس رکھ) لیا، وہ ان کے ساتھ تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں، ان کے پاس ایک خنجر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ خنجر کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ اس لیے لیا ہے کہ اگر مشرکوں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنس پڑے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے بعد دائرہ اسلام میں شامل ہونے والے، جنہیں (فتح مکہ کے دن) معافی دی گئی تھی (حنین کے دن) آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے، انہیں قتل کروا دیجیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافی ہو گیا (ان کا بھاگنا جنگ ہارنے کا باعث نہ بنا) اور اس نے احسان فرمایا (کہ ہمیں فتح عطا کر دی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4680]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4680 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا، فَكَانَ مَعَهَا، فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذَا الْخِنْجَرُ؟، قَالَتْ: اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک خنجر (اپنے پاس رکھ) لیا، وہ ان کے ساتھ تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں، ان کے پاس ایک خنجر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ خنجر کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ اس لیے لیا ہے کہ اگر مشرکوں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنس پڑے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے بعد دائرہ اسلام میں شامل ہونے والے، جنہیں (فتح مکہ کے دن) معافی دی گئی تھی (حنین کے دن) آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے، انہیں قتل کروا دیجیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافی ہو گیا (ان کا بھاگنا جنگ ہارنے کا باعث نہ بنا) اور اس نے احسان فرمایا (کہ ہمیں فتح عطا کر دی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4680]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1809 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے (اپنے چچا) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے (اپنی دادی) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے واقعے کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4681]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4681 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے (اپنے چچا) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے (اپنی دادی) ام سلیم رضی اللہ عنہا کے واقعے کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4681]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1810 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب جنگ کرتے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انصار کی کچھ دوسری عورتوں کو ساتھ لے جا کر جنگ کرتے، وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4682]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4682 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب جنگ کرتے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انصار کی کچھ دوسری عورتوں کو ساتھ لے جا کر جنگ کرتے، وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4682]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1811 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ وَكَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ، فَيَقُولُ: انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: وَيُشْرِفُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ لَا يُصِبْكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ، قَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِهِمْ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا مِنَ النُّعَاسِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب احد کا دن تھا، لوگوں میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک ڈھال کے ساتھ آڑ کیے ہوئے تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انتہائی قوت سے تیر چلانے والے تیر انداز تھے، انہوں نے اس دن دو یا تین کمانیں توڑیں۔ کہا: کوئی شخص اپنے ساتھ تیروں کا ترکش لیے ہوئے گزرتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے آگے پھیلا دو۔ کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کا جائزہ لینے کے لیے جھانک کر دیکھتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے: اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان! جھانک کر نہ دیکھیں، کہیں دشمن کے تیروں میں سے کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے۔ میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ڈھال بنا ہوا ہے۔ کہا: میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا، ان دونوں نے اپنے کپڑے سمیٹے ہوئے تھے، میں ان کی پنڈلیوں کے پازیب دیکھ رہا تھا، وہ اپنی کمر پر مشکیزے لے کر آتی تھیں، (زخمیوں کو پانی پلاتے پلاتے) ان کے منہ میں ان (مشکوں) کو خالی کرتیں تھیں، پھر واپس ہو کر انہیں بھرتی تھیں، پھر آتیں اور انہیں لوگوں کے منہ میں فارغ کرتی تھیں۔ اس دن اونگھ (جانے) کی بنا پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں سے دو یا تین مرتبہ تلوار گری (شدید تکان اور بے خوابی کے عالم میں بھی وہ ڈھال بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑے رہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4683]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4683 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ وَكَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ، فَيَقُولُ: انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: وَيُشْرِفُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ لَا يُصِبْكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ، قَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِهِمْ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا مِنَ النُّعَاسِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب احد کا دن تھا، لوگوں میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک ڈھال کے ساتھ آڑ کیے ہوئے تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انتہائی قوت سے تیر چلانے والے تیر انداز تھے، انہوں نے اس دن دو یا تین کمانیں توڑیں۔ کہا: کوئی شخص اپنے ساتھ تیروں کا ترکش لیے ہوئے گزرتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے آگے پھیلا دو۔ کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کا جائزہ لینے کے لیے جھانک کر دیکھتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے: اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان! جھانک کر نہ دیکھیں، کہیں دشمن کے تیروں میں سے کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے۔ میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ڈھال بنا ہوا ہے۔ کہا: میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا، ان دونوں نے اپنے کپڑے سمیٹے ہوئے تھے، میں ان کی پنڈلیوں کے پازیب دیکھ رہا تھا، وہ اپنی کمر پر مشکیزے لے کر آتی تھیں، (زخمیوں کو پانی پلاتے پلاتے) ان کے منہ میں ان (مشکوں) کو خالی کرتیں تھیں، پھر واپس ہو کر انہیں بھرتی تھیں، پھر آتیں اور انہیں لوگوں کے منہ میں فارغ کرتی تھیں۔ اس دن اونگھ (جانے) کی بنا پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں سے دو یا تین مرتبہ تلوار گری (شدید تکان اور بے خوابی کے عالم میں بھی وہ ڈھال بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑے رہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4683]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة