بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان «وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ» کے نزول کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان «وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ» کے نزول کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1808 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ سورة الفتح آية 24 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی (80) آدمی اسلحہ سے لیس ہو کر (مکہ کے قریب واقع) جبل تنعیم کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر حملہ کرنے کے لیے اترے، (جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیبیہ میں مقیم تھے اور صلح کی بات چل رہی تھی۔) وہ دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں پر حملہ کرنا چاہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں لڑائی کے بغیر ہی پکڑ لیا اور ان کی جان بخشی کر دی (انہیں سزائے موت نہ دی)۔ اس پر اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں تمہیں ان پر غالب کر دینے کے بعد، ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4679]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4679 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ سورة الفتح آية 24 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی (80) آدمی اسلحہ سے لیس ہو کر (مکہ کے قریب واقع) جبل تنعیم کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر حملہ کرنے کے لیے اترے، (جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیبیہ میں مقیم تھے اور صلح کی بات چل رہی تھی۔) وہ دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں پر حملہ کرنا چاہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں لڑائی کے بغیر ہی پکڑ لیا اور ان کی جان بخشی کر دی (انہیں سزائے موت نہ دی)۔ اس پر اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں تمہیں ان پر غالب کر دینے کے بعد، ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4679]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة