أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ "، زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ يَوْمَ الْفَتْحِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے۔۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں۔۔ کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن ابی نجیح سے حدیث بیان کی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابومعمر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر ایک کو اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی سے کچوکا دے کر گرانے لگے اور یہ فرمانے لگے: ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بلاشبہ باطل مٹنے والا ہے۔ حق آ گیا اور باطل نہ آغاز کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے“ (بلکہ دونوں اللہ عزوجل جلالہ کے کام ہیں۔) ابن ابی عمر نے اضافہ کیا: فتح مکہ کے دن۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4625]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة