بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: انصار نے جو مہاجرین کو دیا تھا وہ ان کو واپس ہونا جب اللہ تعالیٰ نے غنی کر دیا مہاجرین کو۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے باب: انصار نے جو مہاجرین کو دیا تھا وہ ان کو واپس ہونا جب اللہ تعالیٰ نے غنی کر دیا مہاجرین کو۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1771 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ، الْمَدِينَةَ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ، فَقَاسَمَهُمْ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ، وَيَكْفُونَهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهِيَ تُدْعَى أُمَّ سُلَيْمٍ، وَكَانَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ أَخًا لِأَنَسٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا لَهَا، فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ وَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، قَالَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّي عِذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، أُمِّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَتْ مِنْ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا وَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ أَبُوهُ، فَكَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَحْضُنُهُ حَتَّى كَبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَهَا، ثُمَّ أَنْكَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ثُمَّ تُوُفِّيَتْ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو اس حالت میں آئے کہ ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا، جبکہ انصار زمین اور جائدادوں والے تھے۔ تو انصار نے ان کے ساتھ اس طرح حصہ داری کی کہ وہ انہیں ہر سال اپنے اموال کی پیداوار کا آدھا حصہ دیں گے اور یہ (مہاجرین) انہیں محنت و مشقت سے بے نیاز کر دیں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ، جو ام سلیم کہلاتی تھیں اور عبداللہ بن ابی طلحہ جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی تھے، کی بھی والدہ تھیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی (انہی) والدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھجور کے اپنے کچھ درخت دیے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ اپنی آزاد کردہ کنیز، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ، ام ایمن رضی اللہ عنہا کو عنایت کر دیے تھے۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اہل خیبر کے خلاف جنگ سے فارغ ہوئے اور مدینہ واپس آئے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے وہ عطیے واپس کر دیے جو انہوں نے انہیں اپنے پھلوں (کھیتوں باغوں) میں سے دیے تھے۔ کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری والدہ کو ان کے کھجور کے درخت واپس کر دیے اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی جگہ اپنے باغ میں سے (ایک حصہ) عطا فرما دیا۔ ابن شہاب نے کہا: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حالات یہ ہیں کہ وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد گرامی) عبداللہ بن عبدالمطلب کی کنیز تھیں، اور وہ حبشہ سے تھیں، اپنے والد کی وفات کے بعد جب حضرت آمنہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی تو ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ کو گود میں اٹھاتیں اور آپ کی پرورش میں شریک رہیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بڑے ہو گئے تو آپ نے انہیں آزاد کر دیا، پھر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے پانچ ماہ بعد فوت ہو گئیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4603]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4603 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ، الْمَدِينَةَ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ، فَقَاسَمَهُمْ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ، وَيَكْفُونَهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهِيَ تُدْعَى أُمَّ سُلَيْمٍ، وَكَانَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ أَخًا لِأَنَسٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا لَهَا، فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ وَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، قَالَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّي عِذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، أُمِّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَتْ مِنْ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا وَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ أَبُوهُ، فَكَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَحْضُنُهُ حَتَّى كَبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَهَا، ثُمَّ أَنْكَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ثُمَّ تُوُفِّيَتْ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو اس حالت میں آئے کہ ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا، جبکہ انصار زمین اور جائدادوں والے تھے۔ تو انصار نے ان کے ساتھ اس طرح حصہ داری کی کہ وہ انہیں ہر سال اپنے اموال کی پیداوار کا آدھا حصہ دیں گے اور یہ (مہاجرین) انہیں محنت و مشقت سے بے نیاز کر دیں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ، جو ام سلیم کہلاتی تھیں اور عبداللہ بن ابی طلحہ جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی تھے، کی بھی والدہ تھیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی (انہی) والدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھجور کے اپنے کچھ درخت دیے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ اپنی آزاد کردہ کنیز، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ، ام ایمن رضی اللہ عنہا کو عنایت کر دیے تھے۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اہل خیبر کے خلاف جنگ سے فارغ ہوئے اور مدینہ واپس آئے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے وہ عطیے واپس کر دیے جو انہوں نے انہیں اپنے پھلوں (کھیتوں باغوں) میں سے دیے تھے۔ کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری والدہ کو ان کے کھجور کے درخت واپس کر دیے اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی جگہ اپنے باغ میں سے (ایک حصہ) عطا فرما دیا۔ ابن شہاب نے کہا: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حالات یہ ہیں کہ وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد گرامی) عبداللہ بن عبدالمطلب کی کنیز تھیں، اور وہ حبشہ سے تھیں، اپنے والد کی وفات کے بعد جب حضرت آمنہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی تو ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ کو گود میں اٹھاتیں اور آپ کی پرورش میں شریک رہیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بڑے ہو گئے تو آپ نے انہیں آزاد کر دیا، پھر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے پانچ ماہ بعد فوت ہو گئیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4603]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1771 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، أَبِيهِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ الْمُعْتَمِرِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا، وَقَالَ حَامِدٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى " أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلاتِ مِنْ أَرْضِهِ، حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ، وَالنَّضِيرِ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيِهِ مَا كَانَ أُعْطَاهُ، قَالَ أَنَسٌ: وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ؟، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا نُعْطِيكَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ أَيْمَنَ: اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا، وَتَقُولُ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: كَذَا، حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، حامد بن عمر بکراوی اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی، سب نے معتمر سے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں۔ ہمیں معتمر بن سلیمان تیمی نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ کوئی آدمی۔۔ جبکہ حامد اور عبدالاعلیٰ نے کہا: کوئی مخصوص آدمی۔۔ اپنی زمین سے کھجوروں کے کچھ درخت (فقرائے مہاجرین کی خبر گیری کے لیے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے خاص کر دیتا تھا، حتی کہ قریظہ اور بنونضیر آپ کے لیے فتح ہو گئے تو اس کے بعد جو کسی نے آپ کو دیا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کرنا شروع کر دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے وہ سب یا اس کا کچھ حصہ مانگوں، جو ان کے گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے وہ سب کا سب مجھے دے دیا، اس پر ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں، میرے گلے میں کپڑا ڈالا اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! ہم وہ (درخت) تمہیں نہیں دیں گے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ ہمیں دے چکے ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ام ایمن! اسے چھوڑ دو، اتنا اتنا تمہارا ہوا۔ وہ کہتی تھیں: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اور آپ اسی طرح فرماتے رہے حتی کہ آپ نے اسے دس گنا یا تقریباً دس گنا عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4604]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4604 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، أَبِيهِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ الْمُعْتَمِرِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا، وَقَالَ حَامِدٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى " أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلاتِ مِنْ أَرْضِهِ، حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ، وَالنَّضِيرِ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيِهِ مَا كَانَ أُعْطَاهُ، قَالَ أَنَسٌ: وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ؟، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا نُعْطِيكَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ أَيْمَنَ: اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا، وَتَقُولُ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: كَذَا، حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، حامد بن عمر بکراوی اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی، سب نے معتمر سے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں۔ ہمیں معتمر بن سلیمان تیمی نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ کوئی آدمی۔۔ جبکہ حامد اور عبدالاعلیٰ نے کہا: کوئی مخصوص آدمی۔۔ اپنی زمین سے کھجوروں کے کچھ درخت (فقرائے مہاجرین کی خبر گیری کے لیے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے خاص کر دیتا تھا، حتی کہ قریظہ اور بنونضیر آپ کے لیے فتح ہو گئے تو اس کے بعد جو کسی نے آپ کو دیا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کرنا شروع کر دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے وہ سب یا اس کا کچھ حصہ مانگوں، جو ان کے گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے وہ سب کا سب مجھے دے دیا، اس پر ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں، میرے گلے میں کپڑا ڈالا اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! ہم وہ (درخت) تمہیں نہیں دیں گے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ ہمیں دے چکے ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ام ایمن! اسے چھوڑ دو، اتنا اتنا تمہارا ہوا۔ وہ کہتی تھیں: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اور آپ اسی طرح فرماتے رہے حتی کہ آپ نے اسے دس گنا یا تقریباً دس گنا عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4604]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة