بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جہاد میں جلدی کرنا اور دونوں کا کام ضروری ہوں تو کس کو پہلے کرنا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے باب: جہاد میں جلدی کرنا اور دونوں کا کام ضروری ہوں تو کس کو پہلے کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1770 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: نَادَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنْ الْأَحْزَابِ " أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ "، فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ، قَالَ: فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے، جس روز آپ جنگِ احزاب سے لوٹے ہم میں منادی کرائی کہ کوئی شخص بنو قریظہ کے سوا کہیں اور نمازِ ظہر ادا نہ کرے۔ کچھ لوگوں کو وقت نکل جانے کا خوف محسوس ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ (پہنچنے) سے پہلے ہی نماز پڑھ لی، جبکہ دوسروں نے کہا: چاہے وقت ختم ہو جائے ہم وہیں نماز پڑھیں گے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ کہا: تو آپ نے فریقین میں سے کسی کو بھی ملامت نہ کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4602]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4602 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: نَادَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنْ الْأَحْزَابِ " أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ "، فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ، قَالَ: فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے، جس روز آپ جنگِ احزاب سے لوٹے ہم میں منادی کرائی کہ کوئی شخص بنو قریظہ کے سوا کہیں اور نمازِ ظہر ادا نہ کرے۔ کچھ لوگوں کو وقت نکل جانے کا خوف محسوس ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ (پہنچنے) سے پہلے ہی نماز پڑھ لی، جبکہ دوسروں نے کہا: چاہے وقت ختم ہو جائے ہم وہیں نماز پڑھیں گے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ کہا: تو آپ نے فریقین میں سے کسی کو بھی ملامت نہ کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4602]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة