بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ جو مال ہم چھوڑ جائیں اس کا کوئی وارث نہیں بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ جو مال ہم چھوڑ جائیں اس کا کوئی وارث نہیں بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 1758 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فوت ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج نے ارادہ کیا کہ وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں اور ان سے اپنے لیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وراثت کا مطالبہ کریں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا: ہماری کوئی وراثت نہیں ہو گی، ہم نے جو چھوڑا وہ صدقہ ہو گا۔؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4579]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4579 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فوت ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج نے ارادہ کیا کہ وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں اور ان سے اپنے لیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وراثت کا مطالبہ کریں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا: ہماری کوئی وراثت نہیں ہو گی، ہم نے جو چھوڑا وہ صدقہ ہو گا۔؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4579]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1759 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حُجَيْنٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا، الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ كَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ، لِأَبِي بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَحْنُ نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرٍ، حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ، فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَ عَنِ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ، لِأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الْأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ، وَقَالُوا: أَصَبْتَ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے اِن (عروہ) کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دختر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ورثے میں سے اپنی وراثت کا مطالبہ کر رہی تھیں جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ اور فدک میں بطور فے دیا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی بچتا تھا، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا، ہم جو چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خاندان اس مال میں سے کھاتا رہے گا۔ اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے کی اس کیفیت میں بھی تبدیلی نہیں کروں گا جس پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں تھا، اور میں اس میں اسی طریقے پر عمل کروں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمل فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کر دیا تو اس معاملے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ناراض ہو گئیں، انہوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا اور ان سے بات چیت نہ کی حتی کہ وفات پا گئیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں، جب فوت ہوئیں تو ان کے خاوند حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کر دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع نہ دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کی توجہ تھی، جب وہ وفات پا گئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے چہرے بدلے ہوئے پائے، اس پر انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح اور بیعت کرنی چاہی۔ انہوں نے ان (چھ) مہینوں کے دوران میں بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے ہاں تشریف لائیں اور آپ کے ساتھ کوئی اور نہ آئے۔۔ (ایسا) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آمد کو ناپسند کرتے ہوئے (کہا)۔۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ ان کے ہاں اکیلے نہیں جائیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان سے کیا توقع ہے کہ وہ میرے ساتھ (کیا) کریں گے؟ اللہ کی قسم! میں ان کے پاس جاؤں گا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے (خطبے اور) تشہد کے کلمات کہے، پھر کہا: ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت اور اللہ نے جو آپ کو عطا کیا ہے، اس کے معترف ہیں، ہم آپ سے اس خوبی اور بھلائی پر حسد نہیں کرتے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے، لیکن آپ نے امارت (قبول کر کے) ہم پر من مانی کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رشتہ داری کی بنا پر ہم سمجھتے تھے کہ ہمارا بھی کوئی حق ہے (ہم سے بھی مشورہ کیا جاتا)، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرتے رہے حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھیں بہہ پڑیں۔ پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے اپنی قرابت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت نبھانا کہیں زیادہ محبوب ہے اور اس مال کی بنا پر میرے اور آپ لوگوں کے درمیان جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق سے نہیں ہٹا، اور میں نے کوئی ایسا کام نہیں چھوڑا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس میں کرتے ہوئے دیکھا تھا مگر میں نے بالکل وہی کیا ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: بیعت کے لیے آپ کے ساتھ (آج) پچھلے وقت کا وعدہ ہے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو منبر پر چڑھے، کلماتِ تشہد ادا کیے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حال، بیعت سے ان کے پیچھے رہ جانے کا سبب اور ان کا وہ عذر بیان کیا جو انہوں نے ان کے سامنے پیش کیا تھا، پھر استغفار کیا۔ (اس کے بعد) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کلماتِ تشہد ادا کیے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت بیان کی اور یہ (کہا:) کہ انہوں نے جو کیا اس کا سبب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقابلہ بازی اور اللہ نے انہیں جو فضیلت دی ہے اس کا انکار نہ تھا، لیکن ہم سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں ہمارا بھی ایک حصہ تھا جس میں ہم پر من مانی کی گئی ہے، ہمیں اپنے دلوں میں اس پر دکھ محسوس ہوا۔ اس (گفتگو) پر مسلمانوں نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا: آپ نے درست کہا ہے اور جب وہ پسندیدہ بات کی طرف لوٹ آئے تو مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4580]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4580 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حُجَيْنٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا، الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ كَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ، لِأَبِي بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَحْنُ نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرٍ، حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ، فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَ عَنِ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ، لِأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الْأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ، وَقَالُوا: أَصَبْتَ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے اِن (عروہ) کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دختر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ورثے میں سے اپنی وراثت کا مطالبہ کر رہی تھیں جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ اور فدک میں بطور فے دیا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی بچتا تھا، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا، ہم جو چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خاندان اس مال میں سے کھاتا رہے گا۔ اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے کی اس کیفیت میں بھی تبدیلی نہیں کروں گا جس پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں تھا، اور میں اس میں اسی طریقے پر عمل کروں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمل فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کر دیا تو اس معاملے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ناراض ہو گئیں، انہوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا اور ان سے بات چیت نہ کی حتی کہ وفات پا گئیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں، جب فوت ہوئیں تو ان کے خاوند حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کر دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع نہ دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کی توجہ تھی، جب وہ وفات پا گئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے چہرے بدلے ہوئے پائے، اس پر انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح اور بیعت کرنی چاہی۔ انہوں نے ان (چھ) مہینوں کے دوران میں بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے ہاں تشریف لائیں اور آپ کے ساتھ کوئی اور نہ آئے۔۔ (ایسا) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آمد کو ناپسند کرتے ہوئے (کہا)۔۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ ان کے ہاں اکیلے نہیں جائیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان سے کیا توقع ہے کہ وہ میرے ساتھ (کیا) کریں گے؟ اللہ کی قسم! میں ان کے پاس جاؤں گا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے (خطبے اور) تشہد کے کلمات کہے، پھر کہا: ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت اور اللہ نے جو آپ کو عطا کیا ہے، اس کے معترف ہیں، ہم آپ سے اس خوبی اور بھلائی پر حسد نہیں کرتے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے، لیکن آپ نے امارت (قبول کر کے) ہم پر من مانی کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رشتہ داری کی بنا پر ہم سمجھتے تھے کہ ہمارا بھی کوئی حق ہے (ہم سے بھی مشورہ کیا جاتا)، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرتے رہے حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھیں بہہ پڑیں۔ پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے اپنی قرابت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت نبھانا کہیں زیادہ محبوب ہے اور اس مال کی بنا پر میرے اور آپ لوگوں کے درمیان جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق سے نہیں ہٹا، اور میں نے کوئی ایسا کام نہیں چھوڑا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس میں کرتے ہوئے دیکھا تھا مگر میں نے بالکل وہی کیا ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: بیعت کے لیے آپ کے ساتھ (آج) پچھلے وقت کا وعدہ ہے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو منبر پر چڑھے، کلماتِ تشہد ادا کیے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حال، بیعت سے ان کے پیچھے رہ جانے کا سبب اور ان کا وہ عذر بیان کیا جو انہوں نے ان کے سامنے پیش کیا تھا، پھر استغفار کیا۔ (اس کے بعد) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کلماتِ تشہد ادا کیے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت بیان کی اور یہ (کہا:) کہ انہوں نے جو کیا اس کا سبب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقابلہ بازی اور اللہ نے انہیں جو فضیلت دی ہے اس کا انکار نہ تھا، لیکن ہم سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں ہمارا بھی ایک حصہ تھا جس میں ہم پر من مانی کی گئی ہے، ہمیں اپنے دلوں میں اس پر دکھ محسوس ہوا۔ اس (گفتگو) پر مسلمانوں نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا: آپ نے درست کہا ہے اور جب وہ پسندیدہ بات کی طرف لوٹ آئے تو مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4580]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1759 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ فَاطِمَةَ، وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِي بَكْرٍ، وَذَكَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ثُمَّ مَضَى إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالُوا: أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ، فَكَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَى عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ترکے سے اپنی وراثت کا مطالبہ کر رہے تھے، اس وقت وہ آپ کی فدک کی زمین اور خیبر سے آپ کے حصے کا مطالبہ کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا۔۔ انہوں نے بھی زہری سے عقیل کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت بیان کی اور ان کی فضیلت اور (اسلام میں) سبقت کا ذکر کیا، پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان کی بیعت کی، اس پر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف آئے اور کہنے لگے: آپ نے درست کیا، بہت اچھا کیا۔ جب وہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) امارت اور (اس کے حوالے سے) پسندیدہ روش کے قریب ہوئے تو لوگ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4581]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4581 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ فَاطِمَةَ، وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِي بَكْرٍ، وَذَكَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ثُمَّ مَضَى إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالُوا: أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ، فَكَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَى عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ترکے سے اپنی وراثت کا مطالبہ کر رہے تھے، اس وقت وہ آپ کی فدک کی زمین اور خیبر سے آپ کے حصے کا مطالبہ کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا۔۔ انہوں نے بھی زہری سے عقیل کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت بیان کی اور ان کی فضیلت اور (اسلام میں) سبقت کا ذکر کیا، پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان کی بیعت کی، اس پر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف آئے اور کہنے لگے: آپ نے درست کیا، بہت اچھا کیا۔ جب وہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) امارت اور (اس کے حوالے سے) پسندیدہ روش کے قریب ہوئے تو لوگ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4581]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1759 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : " أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، قَالَ: وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ، إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ، إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ، فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ، فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ، فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَأَمَّا خَيْبَرُ، وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ، وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ، قَالَ: فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ترکے میں سے حصہ نکالیں جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطور فے دیا تھا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا، ہم نے جو چھوڑا وہ صدقہ ہو گا۔ کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس مال میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر، فدک اور مدینہ میں صدقے کی صورت میں چھوڑا تھا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات تسلیم نہ کی اور کہا: میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمل کرتے تھے، مگر میں بھی اسی پر عمل کروں گا۔ اگر میں نے آپ کے حکم میں سے کوئی چیز چھوڑی تو مجھے ڈر ہے کہ میں گمراہ ہو جاؤں گا۔ رہا آپ کا مدینہ والا صدقہ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا، اس پر (قبضے میں) حضرت علی رضی اللہ عنہ ان پر غالب آ گئے، اور خیبر اور فدک کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روک لیا اور کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایسا صدقہ ہے جو آپ کے ذمے آنے والے حقوق اور حوادث کے لیے تھا، ان دونوں کا معاملہ اسی کے سپرد رہے گا جو حکومت کا ذمہ دار ہو گا۔ کہا: وہ دونوں آج تک اسی حالت پر ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4582]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4582 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : " أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، قَالَ: وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ، إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ، إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ، فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ، فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ، فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَأَمَّا خَيْبَرُ، وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ، وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ، قَالَ: فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ترکے میں سے حصہ نکالیں جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطور فے دیا تھا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا، ہم نے جو چھوڑا وہ صدقہ ہو گا۔ کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس مال میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر، فدک اور مدینہ میں صدقے کی صورت میں چھوڑا تھا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات تسلیم نہ کی اور کہا: میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمل کرتے تھے، مگر میں بھی اسی پر عمل کروں گا۔ اگر میں نے آپ کے حکم میں سے کوئی چیز چھوڑی تو مجھے ڈر ہے کہ میں گمراہ ہو جاؤں گا۔ رہا آپ کا مدینہ والا صدقہ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا، اس پر (قبضے میں) حضرت علی رضی اللہ عنہ ان پر غالب آ گئے، اور خیبر اور فدک کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روک لیا اور کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایسا صدقہ ہے جو آپ کے ذمے آنے والے حقوق اور حوادث کے لیے تھا، ان دونوں کا معاملہ اسی کے سپرد رہے گا جو حکومت کا ذمہ دار ہو گا۔ کہا: وہ دونوں آج تک اسی حالت پر ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4582]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1760 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي، فَهُوَ صَدَقَةٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے ورثاء ایک دینار کا بھی حصہ نہیں لیں گے، میں نے جو چھوڑا، وہ میری بیویوں کے خرچ اور میرے عامل کی ضروریات کے بعد (سب کا سب) صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4583]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4583 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي، فَهُوَ صَدَقَةٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے ورثاء ایک دینار کا بھی حصہ نہیں لیں گے، میں نے جو چھوڑا، وہ میری بیویوں کے خرچ اور میرے عامل کی ضروریات کے بعد (سب کا سب) صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4583]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1760 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4584]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4584 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4584]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1761 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہری نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمارا کوئی وارث نہیں بنے گا، ہم نے جو چھوڑا وہ صدقہ ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4585]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4585 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہری نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمارا کوئی وارث نہیں بنے گا، ہم نے جو چھوڑا وہ صدقہ ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4585]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة