بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غلام، لونڈی سے کیونکر سلوک کرنا چاہیئے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: غلام، لونڈی سے کیونکر سلوک کرنا چاہیئے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1657 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، فِرَاسٍ ، ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: " أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا، قَالَ: فَأَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا، فَقَالَ: مَا فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَسْوَى هَذَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ أَوْ ضَرَبَهُ فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے فراس سے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے ابوعمر زاذان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاں آیا جبکہ انہوں نے ایک غلام کو آزاد کیا تھا۔ کہا: انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی چیز پکڑی اور کہا: اس میں اتنا بھی اجر نہیں جو اس کے برابر ہو اس کے سوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے زد و کوب کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے۔ (اس حکم کو ماننے کا اجر ہو سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4298]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4298 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، فِرَاسٍ ، ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: " أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا، قَالَ: فَأَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا، فَقَالَ: مَا فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَسْوَى هَذَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ أَوْ ضَرَبَهُ فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے فراس سے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے ابوعمر زاذان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاں آیا جبکہ انہوں نے ایک غلام کو آزاد کیا تھا۔ کہا: انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی چیز پکڑی اور کہا: اس میں اتنا بھی اجر نہیں جو اس کے برابر ہو اس کے سوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے زد و کوب کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے۔ (اس حکم کو ماننے کا اجر ہو سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4298]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1657 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، فِرَاسٍ ، ذَكْوَانَ ، زَاذَانَ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ زَاذَانَ : " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَعَا بِغُلَامٍ لَهُ، فَرَأَى بِظَهْرِهِ أَثَرًا، فَقَالَ لَهُ: أَوْجَعْتُكَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَنْتَ عَتِيقٌ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ: مَا لِي فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ أَوْ لَطَمَهُ فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ہمیں فراس سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو بلایا اور اس کی پشت پر (ضرب کا) نشان دیکھا تو اس سے کہا: میں نے تمہیں دکھ دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تم آزاد ہو۔ کہا: پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز پکڑی اور کہا: میرے لیے اس میں اتنا بھی اجر نہیں ہے جو اس کے برابر ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا، آپ فرما رہے تھے: جس نے اپنے غلام کو حد لگانے کے لیے (ایسے کام پر) مارا جو اس نے نہیں کیا یا اسے طمانچہ مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4299]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4299 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، فِرَاسٍ ، ذَكْوَانَ ، زَاذَانَ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ زَاذَانَ : " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَعَا بِغُلَامٍ لَهُ، فَرَأَى بِظَهْرِهِ أَثَرًا، فَقَالَ لَهُ: أَوْجَعْتُكَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَنْتَ عَتِيقٌ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ: مَا لِي فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ أَوْ لَطَمَهُ فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ہمیں فراس سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو بلایا اور اس کی پشت پر (ضرب کا) نشان دیکھا تو اس سے کہا: میں نے تمہیں دکھ دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تم آزاد ہو۔ کہا: پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز پکڑی اور کہا: میرے لیے اس میں اتنا بھی اجر نہیں ہے جو اس کے برابر ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا، آپ فرما رہے تھے: جس نے اپنے غلام کو حد لگانے کے لیے (ایسے کام پر) مارا جو اس نے نہیں کیا یا اسے طمانچہ مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4299]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1657 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، فِرَاسٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ، وَأَبِي عَوَانَةَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَهْدِيٍّ، فَذَكَرَ فِيهِ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَدَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع اور عبدالرحمان (بن مہدی) دونوں نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے فراس سے شعبہ اور ابوعوانہ کی سند کے ساتھ روایت کی، ابن مہدی نے اپنی حدیث میں حد کا ذکر کیا ہے اور وکیع کی حدیث میں ہے: جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا۔ انہوں نے حد کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4300]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4300 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، فِرَاسٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ، وَأَبِي عَوَانَةَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَهْدِيٍّ، فَذَكَرَ فِيهِ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَدَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع اور عبدالرحمان (بن مہدی) دونوں نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے فراس سے شعبہ اور ابوعوانہ کی سند کے ساتھ روایت کی، ابن مہدی نے اپنی حدیث میں حد کا ذکر کیا ہے اور وکیع کی حدیث میں ہے: جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا۔ انہوں نے حد کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4300]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1658 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: " لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: امْتَثِلْ مِنْهُ فَعَفَا، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعْتِقُوهَا، قَالُوا: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا، قَالَ: "، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاویہ بن سوید (بن مُقرن) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا اور وہ بھاگ گیا، پھر میں ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی، انہوں نے اسے اور مجھے بلایا، پھر (غلام سے) کہا: اس سے پورا بدلہ لے لو تو اس نے معاف کر دیا۔ پھر انہوں (میرے والد) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں ہم بنی مقرن کے پاس صرف ایک خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ لوگوں نے کہا: ان کے پاس اس کے علاوہ اور خادم نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ (فی الحال) اس سے خدمت لیں، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں (دوسرا انتظام ہو جائے) تو اس کا راستہ چھوڑ دیں (اسے آزاد کر دیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4301]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4301 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: " لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: امْتَثِلْ مِنْهُ فَعَفَا، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعْتِقُوهَا، قَالُوا: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا، قَالَ: "، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاویہ بن سوید (بن مُقرن) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا اور وہ بھاگ گیا، پھر میں ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی، انہوں نے اسے اور مجھے بلایا، پھر (غلام سے) کہا: اس سے پورا بدلہ لے لو تو اس نے معاف کر دیا۔ پھر انہوں (میرے والد) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں ہم بنی مقرن کے پاس صرف ایک خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ لوگوں نے کہا: ان کے پاس اس کے علاوہ اور خادم نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ (فی الحال) اس سے خدمت لیں، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں (دوسرا انتظام ہو جائے) تو اس کا راستہ چھوڑ دیں (اسے آزاد کر دیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4301]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1658 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ: عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ : " عَجَزَ عَلَيْكَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا، لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ، مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ادریس نے ہمیں حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک بوڑھے نے جلدی کی اور اپنے خادم کو طمانچہ دے مارا، تو حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تمہیں اس کے شریف چہرے کے سوا اور کوئی جگہ نہ ملی؟ میں نے اپنے آپ کو مقرن کے بیٹوں میں سے ساتواں بیٹا پایا، ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی، ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اسے طمانچہ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس کو آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4302]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4302 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ: عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ : " عَجَزَ عَلَيْكَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا، لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ، مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ادریس نے ہمیں حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک بوڑھے نے جلدی کی اور اپنے خادم کو طمانچہ دے مارا، تو حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تمہیں اس کے شریف چہرے کے سوا اور کوئی جگہ نہ ملی؟ میں نے اپنے آپ کو مقرن کے بیٹوں میں سے ساتواں بیٹا پایا، ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی، ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اسے طمانچہ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس کو آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4302]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1658 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا كَلِمَةً، فَلَطَمَهَا فَغَضِبَ سُوَيْدٌ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عدی نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حصین سے اور انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے بھائی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر پر کپڑا بیچا کرتے تھے، ایک لونڈی (گھر سے) باہر نکلی اور ہم میں سے کسی کو کوئی بات کہی تو اس نے اسے طمانچہ دے مارا، اس پر سوید رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے۔۔ اس کے بعد ابن ادریس کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4303]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4303 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا كَلِمَةً، فَلَطَمَهَا فَغَضِبَ سُوَيْدٌ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عدی نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حصین سے اور انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے بھائی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر پر کپڑا بیچا کرتے تھے، ایک لونڈی (گھر سے) باہر نکلی اور ہم میں سے کسی کو کوئی بات کہی تو اس نے اسے طمانچہ دے مارا، اس پر سوید رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے۔۔ اس کے بعد ابن ادریس کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4303]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1658 صحیح مسلم
عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ ، سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: مَا اسْمُكَ؟، قُلْتُ: شُعْبَةُ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ : " أَنَّ جَارِيَةً لَهُ لَطَمَهَا إِنْسَانٌ، فَقَالَ لَهُ: سُوَيْدٌ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ إِخْوَةٍ لِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا خَادِمٌ غَيْرُ وَاحِدٍ، فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالصمد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھ سے محمد بن منکدر نے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: شعبہ۔ تو محمد نے کہا: مجھے ابوشعبہ عراقی (مولیٰ سوید بن مقرن) نے سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ان کی لونڈی کو کسی انسان نے تھپڑ مارا تو سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ حرمت والا (ہوتا) ہے اور کہا: میں نے خود کو، اور میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں دیکھا اور ہمارے پاس سوائے ایک کے کوئی اور خادم نہ تھا۔ ہم میں سے کسی نے عمداً اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4304]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4304 صحیح مسلم
عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ ، سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: مَا اسْمُكَ؟، قُلْتُ: شُعْبَةُ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ : " أَنَّ جَارِيَةً لَهُ لَطَمَهَا إِنْسَانٌ، فَقَالَ لَهُ: سُوَيْدٌ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ إِخْوَةٍ لِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا خَادِمٌ غَيْرُ وَاحِدٍ، فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالصمد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھ سے محمد بن منکدر نے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: شعبہ۔ تو محمد نے کہا: مجھے ابوشعبہ عراقی (مولیٰ سوید بن مقرن) نے سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ان کی لونڈی کو کسی انسان نے تھپڑ مارا تو سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ حرمت والا (ہوتا) ہے اور کہا: میں نے خود کو، اور میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں دیکھا اور ہمارے پاس سوائے ایک کے کوئی اور خادم نہ تھا۔ ہم میں سے کسی نے عمداً اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4304]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1658 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ؟ مَا اسْمُكَ؟ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہب بن جریر نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی کہ محمد بن منکدر نے مجھ سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ آگے عبدالصمد کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4305]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4305 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ؟ مَا اسْمُكَ؟ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہب بن جریر نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی کہ محمد بن منکدر نے مجھ سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ آگے عبدالصمد کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4305]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1659 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ : " كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي بِالسَّوْطِ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ فَلَمْ أَفْهَمْ الصَّوْتَ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ، يَقُولُ: اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، قَالَ: فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي، فَقَالَ: اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ، فَقُلْتُ: لَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا بَعْدَهُ أَبَدًا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک تیمی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی: ابومسعود! جان لو۔ میں غصے کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا، کہا: جب وہ (کہنے والے) میرے قریب پہنچے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے، آپ فرما رہے تھے: ابومسعود! جان لو، ابومسعود! جان لو۔ کہا: میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا، تو آپ نے فرمایا: ابومسعود! جان لو۔ اس غلام پر تمہیں جتنا اختیار ہے اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ کہا: تو میں نے کہا: اس کے بعد میں کسی غلام کو کبھی نہیں ماروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4306]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4306 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ : " كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي بِالسَّوْطِ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ فَلَمْ أَفْهَمْ الصَّوْتَ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ، يَقُولُ: اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، قَالَ: فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي، فَقَالَ: اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ، فَقُلْتُ: لَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا بَعْدَهُ أَبَدًا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک تیمی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی: ابومسعود! جان لو۔ میں غصے کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا، کہا: جب وہ (کہنے والے) میرے قریب پہنچے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے، آپ فرما رہے تھے: ابومسعود! جان لو، ابومسعود! جان لو۔ کہا: میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا، تو آپ نے فرمایا: ابومسعود! جان لو۔ اس غلام پر تمہیں جتنا اختیار ہے اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ کہا: تو میں نے کہا: اس کے بعد میں کسی غلام کو کبھی نہیں ماروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4306]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1659 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ الْوَاحِدِ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ فَسَقَطَ مِنْ يَدِي السَّوْطُ مِنْ هَيْبَتِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر، سفیان اور ابوعوانہ سب نے اعمش سے عبدالواحد کی (سابقہ) سند کے ساتھ اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر جریر کی حدیث میں ہے: آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4307]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4307 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ الْوَاحِدِ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ فَسَقَطَ مِنْ يَدِي السَّوْطُ مِنْ هَيْبَتِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر، سفیان اور ابوعوانہ سب نے اعمش سے عبدالواحد کی (سابقہ) سند کے ساتھ اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر جریر کی حدیث میں ہے: آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4307]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة