مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا كَلِمَةً، فَلَطَمَهَا فَغَضِبَ سُوَيْدٌ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عدی نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حصین سے اور انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے بھائی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر پر کپڑا بیچا کرتے تھے، ایک لونڈی (گھر سے) باہر نکلی اور ہم میں سے کسی کو کوئی بات کہی تو اس نے اسے طمانچہ دے مارا، اس پر سوید رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے۔۔ اس کے بعد ابن ادریس کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4303]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة