بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو شخص قسم کھائے کسی کام پر پھر اس کے خلاف کو بہتر سمجھے تو اس کو کرے اور قسم کا کفارہ دے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: جو شخص قسم کھائے کسی کام پر پھر اس کے خلاف کو بہتر سمجھے تو اس کو کرے اور قسم کا کفارہ دے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1649 صحیح مسلم
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِخَلَفٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا، أَوَ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
غیلان بن جریر نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا۔ ہم آپ سے سواری کے طلبگار تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس (کوئی سواری) ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ کہا: جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے، پھر (آپ کے پاس) اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمیں سفید کوہان والے تین (جوڑے) اونٹ دینے کا حکم دیا، جب ہم چلے، ہم نے کہا: یا ہم نے ایک دوسرے سے کہا۔۔ اللہ ہمیں برکت نہیں دے گا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں سواری حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی، پھر آپ نے ہمیں سواری دے دی، چنانچہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سوار نہیں کیا، بلکہ اللہ نے تمہیں سواری مہیا کی ہے اور اللہ کی قسم! اگر اللہ چاہے، میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا اور پھر (کسی دوسرے کام کو) اس سے بہتر خیال کرتا ہوں، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دیتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4263]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4263 صحیح مسلم
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِخَلَفٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا، أَوَ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
غیلان بن جریر نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا۔ ہم آپ سے سواری کے طلبگار تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس (کوئی سواری) ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ کہا: جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے، پھر (آپ کے پاس) اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمیں سفید کوہان والے تین (جوڑے) اونٹ دینے کا حکم دیا، جب ہم چلے، ہم نے کہا: یا ہم نے ایک دوسرے سے کہا۔۔ اللہ ہمیں برکت نہیں دے گا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں سواری حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی، پھر آپ نے ہمیں سواری دے دی، چنانچہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سوار نہیں کیا، بلکہ اللہ نے تمہیں سواری مہیا کی ہے اور اللہ کی قسم! اگر اللہ چاہے، میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا اور پھر (کسی دوسرے کام کو) اس سے بہتر خیال کرتا ہوں، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دیتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4263]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1649 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ لَهُمُ الْحُمْلَانَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ، فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ، فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ، أَوَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ فَارْكَبُوهُنَّ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي بِهِنَّ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَكُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ، فَقَالُوا لِي: وَاللَّهِ إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ، فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا، قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى سَوَاءً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
برید نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ سے ان کے لیے سواریاں مانگوں، (یہ اس موقع کی بات ہے) جب وہ آپ کے ساتھ جیش العسرۃ میں تھے۔۔ اور اس سے مراد غزوہ تبوک ہے۔۔ تو میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ انہیں سواریاں دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا۔ اور میں ایسے وقت آپ کے پاس گیا تھا کہ آپ غصے میں تھے اور مجھے معلوم نہ تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انکار کی وجہ سے اور اس ڈر سے کہ آپ اپنے دل میں مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں، غمگین واپس ہوا۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا، انہیں بتایا۔ میں نے ایک چھوٹی سی گھڑی ہی گزاری ہو گی کہ اچانک میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ پکار رہے تھے: اے عبداللہ بن قیس! میں نے انہیں جواب دیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ، وہ تمہیں بلا رہے ہیں۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ دو اکٹھے بندھے ہوئے اونٹ لے لو، یہ جوڑا اور یہ جوڑا بھی لے لو۔۔ (چھ اونٹوں کی طرف اشارہ کیا جو آپ نے اسی وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدے تھے۔۔) اور انہیں اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور کہو: اللہ تعالیٰ۔۔ یا فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔ تمہیں یہ سواریاں مہیا کر رہے ہیں، ان پر سواری کرو۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں انہیں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں ان پر سوار کر رہے ہیں لیکن اللہ کی قسم! میں اس وقت تک تمہیں نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم میں سے کوئی میرے ساتھ اس آدمی کے پاس جائے جس نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات سنی تھی جب میں نے آپ سے تمہارے لیے سوال کیا تھا، اور پہلی مرتبہ آپ کے منع کرنے اور اس کے بعد مجھے عطا کرنے کی بات بھی سنی تھی، مبادا تم سمجھو کہ میں نے تمہیں ایسی بات بتائی ہے جو آپ نے نہیں فرمائی۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ ہمارے نزدیک سچے ہیں اور جو آپ کو پسند ہے وہ بھی ہم ضرور کریں گے، چنانچہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے چند لوگوں کو ساتھ لے کر چل پڑے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات اور آپ کے انکار کرنے کے بعد عطا کرنے کے بارے میں خود سنا تھا۔ انہوں نے بالکل وہی بات کی جو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے (اپنے) لوگوں کو بتائی تھی۔ فائدہ: اس حدیث میں واقعے کے پہلے حصے کی زیادہ تفصیل بیان کی گئی ہے جبکہ آخری حصے کی تفصیل پچھلی حدیث میں ہے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ساتھیوں نے بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں جواب دیا، پھر بلا کر اونٹ عطا فرمائے، پھر یہ لوگ ان لوگوں کے پاس گئے جو سارے واقعے کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے موجود تھے، پھر یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قسم والی بات بتائی۔ اس پر آپ نے وہی جواب دیا جو پہلی حدیث میں مذکور ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4264]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4264 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ لَهُمُ الْحُمْلَانَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ، فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ، فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ، أَوَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ فَارْكَبُوهُنَّ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي بِهِنَّ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَكُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ، فَقَالُوا لِي: وَاللَّهِ إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ، فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا، قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى سَوَاءً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
برید نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ سے ان کے لیے سواریاں مانگوں، (یہ اس موقع کی بات ہے) جب وہ آپ کے ساتھ جیش العسرۃ میں تھے۔۔ اور اس سے مراد غزوہ تبوک ہے۔۔ تو میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ انہیں سواریاں دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا۔ اور میں ایسے وقت آپ کے پاس گیا تھا کہ آپ غصے میں تھے اور مجھے معلوم نہ تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انکار کی وجہ سے اور اس ڈر سے کہ آپ اپنے دل میں مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں، غمگین واپس ہوا۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا، انہیں بتایا۔ میں نے ایک چھوٹی سی گھڑی ہی گزاری ہو گی کہ اچانک میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ پکار رہے تھے: اے عبداللہ بن قیس! میں نے انہیں جواب دیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ، وہ تمہیں بلا رہے ہیں۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ دو اکٹھے بندھے ہوئے اونٹ لے لو، یہ جوڑا اور یہ جوڑا بھی لے لو۔۔ (چھ اونٹوں کی طرف اشارہ کیا جو آپ نے اسی وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدے تھے۔۔) اور انہیں اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور کہو: اللہ تعالیٰ۔۔ یا فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔ تمہیں یہ سواریاں مہیا کر رہے ہیں، ان پر سواری کرو۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں انہیں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں ان پر سوار کر رہے ہیں لیکن اللہ کی قسم! میں اس وقت تک تمہیں نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم میں سے کوئی میرے ساتھ اس آدمی کے پاس جائے جس نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات سنی تھی جب میں نے آپ سے تمہارے لیے سوال کیا تھا، اور پہلی مرتبہ آپ کے منع کرنے اور اس کے بعد مجھے عطا کرنے کی بات بھی سنی تھی، مبادا تم سمجھو کہ میں نے تمہیں ایسی بات بتائی ہے جو آپ نے نہیں فرمائی۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ ہمارے نزدیک سچے ہیں اور جو آپ کو پسند ہے وہ بھی ہم ضرور کریں گے، چنانچہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے چند لوگوں کو ساتھ لے کر چل پڑے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات اور آپ کے انکار کرنے کے بعد عطا کرنے کے بارے میں خود سنا تھا۔ انہوں نے بالکل وہی بات کی جو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے (اپنے) لوگوں کو بتائی تھی۔ فائدہ: اس حدیث میں واقعے کے پہلے حصے کی زیادہ تفصیل بیان کی گئی ہے جبکہ آخری حصے کی تفصیل پچھلی حدیث میں ہے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ساتھیوں نے بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں جواب دیا، پھر بلا کر اونٹ عطا فرمائے، پھر یہ لوگ ان لوگوں کے پاس گئے جو سارے واقعے کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے موجود تھے، پھر یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قسم والی بات بتائی۔ اس پر آپ نے وہی جواب دیا جو پہلی حدیث میں مذکور ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4264]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1649 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّاد يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، الْقَاسِمِ بن عاصم ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّاد يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَعَنْ الْقَاسِمِ بن عاصم ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: أَيُّوبُ وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ، فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي، فَقَالَ لَهُ: هَلُمَّ فَتَلَكَّأَ، فَقَالَ: هَلُمَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، فَقَالَ: الرَّجُلُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ أُحَدِّثْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ، فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَدَعَا بِنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، قَالَ: فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قَالَ: بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَغْفَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا يُبَارَكُ لَنَا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ وَإِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلْتَنَا أَفَنَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی۔۔ ایوب نے کہا: ابوقلابہ کی حدیث کی نسبت مجھے قاسم کی حدیث زیادہ یاد ہے۔۔ انہوں (زہدم) نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے اپنا دسترخوان منگوایا جس پر مرغی کا گوشت تھا، اتنے میں بنو تیم اللہ میں سے ایک آدمی اندر داخل ہوا، وہ سرخ رنگ کا موالی جیسا شخص تھا، تو انہوں نے اس سے کہا: آؤ۔ وہ ہچکچایا تو انہوں نے کہا: آؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس (مرغی کے گوشت) میں سے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس آدمی نے کہا: میں نے اسے کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے دیکھا تھا جس سے مجھے اس سے گھن آئی تو میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس (کے گوشت) کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ اس پر انہوں نے کہا: آؤ، میں تمہیں اس کے بارے میں حدیث سناتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اشعریوں کے ایک گروہ کے ساتھ تھا، ہم آپ سے سواریوں کے طلبگار تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ جتنا اللہ نے چاہا ہم رکے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس (کافروں سے) چھینے ہوئے اونٹ (جو آپ نے سعد رضی اللہ عنہ سے خرید لیے تھے) لائے گئے تو آپ نے ہمیں بلوایا، آپ نے ہمیں سفید کوہان والے پانچ (یا چھ، حدیث: 4264) اونٹ دینے کا حکم دیا۔ کہا: جب ہم چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا: (غالباً) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی قسم سے غافل کر دیا، ہمیں برکت نہ دی جائے گی، چنانچہ ہم واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے تھے اور آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی، پھر آپ نے ہمیں سواریاں دے دی ہیں تو اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ کی مشیت سے میں جب بھی کسی چیز پر قسم کھاتا ہوں، پھر اس کے علاوہ کسی اور کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے اور (قسم کا کفارہ ادا کر کے) اس کا بندھن کھول دیتا ہوں۔ تم جاؤ، تمہیں اللہ عزوجل نے سوار کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4265]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4265 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَمَّاد يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، الْقَاسِمِ بن عاصم ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّاد يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَعَنْ الْقَاسِمِ بن عاصم ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: أَيُّوبُ وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ، فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي، فَقَالَ لَهُ: هَلُمَّ فَتَلَكَّأَ، فَقَالَ: هَلُمَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، فَقَالَ: الرَّجُلُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ أُحَدِّثْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ، فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَدَعَا بِنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، قَالَ: فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قَالَ: بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَغْفَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا يُبَارَكُ لَنَا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ وَإِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلْتَنَا أَفَنَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی۔۔ ایوب نے کہا: ابوقلابہ کی حدیث کی نسبت مجھے قاسم کی حدیث زیادہ یاد ہے۔۔ انہوں (زہدم) نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے اپنا دسترخوان منگوایا جس پر مرغی کا گوشت تھا، اتنے میں بنو تیم اللہ میں سے ایک آدمی اندر داخل ہوا، وہ سرخ رنگ کا موالی جیسا شخص تھا، تو انہوں نے اس سے کہا: آؤ۔ وہ ہچکچایا تو انہوں نے کہا: آؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس (مرغی کے گوشت) میں سے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس آدمی نے کہا: میں نے اسے کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے دیکھا تھا جس سے مجھے اس سے گھن آئی تو میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس (کے گوشت) کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ اس پر انہوں نے کہا: آؤ، میں تمہیں اس کے بارے میں حدیث سناتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اشعریوں کے ایک گروہ کے ساتھ تھا، ہم آپ سے سواریوں کے طلبگار تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ جتنا اللہ نے چاہا ہم رکے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس (کافروں سے) چھینے ہوئے اونٹ (جو آپ نے سعد رضی اللہ عنہ سے خرید لیے تھے) لائے گئے تو آپ نے ہمیں بلوایا، آپ نے ہمیں سفید کوہان والے پانچ (یا چھ، حدیث: 4264) اونٹ دینے کا حکم دیا۔ کہا: جب ہم چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا: (غالباً) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی قسم سے غافل کر دیا، ہمیں برکت نہ دی جائے گی، چنانچہ ہم واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے تھے اور آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی، پھر آپ نے ہمیں سواریاں دے دی ہیں تو اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ کی مشیت سے میں جب بھی کسی چیز پر قسم کھاتا ہوں، پھر اس کے علاوہ کسی اور کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے اور (قسم کا کفارہ ادا کر کے) اس کا بندھن کھول دیتا ہوں۔ تم جاؤ، تمہیں اللہ عزوجل نے سوار کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4265]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1649 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: جرم کے قبیلے اور اشعریوں کے درمیان محبت و اخوت کا رشتہ تھا، ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہیں کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا۔۔ (آگے) اسی کے ہم معنی بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4266]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4266 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: جرم کے قبیلے اور اشعریوں کے درمیان محبت و اخوت کا رشتہ تھا، ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہیں کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا۔۔ (آگے) اسی کے ہم معنی بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4266]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1649 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبِي مُوسَى
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ . ح، وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، وَاقْتَصُّوا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ، سفیان اور وہیب، سب نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔۔ ان سب نے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4267]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4267 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبِي مُوسَى
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ . ح، وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، وَاقْتَصُّوا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ، سفیان اور وہیب، سب نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔۔ ان سب نے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4267]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1649 صحیح مسلم
شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ ، مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، أَبِي مُوسَى
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مطروراق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہدم جرمی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے۔۔ انہوں نے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس (اپنی قسم) کو نہیں بھولا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4268]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4268 صحیح مسلم
شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ ، مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، أَبِي مُوسَى
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مطروراق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہدم جرمی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے۔۔ انہوں نے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس (اپنی قسم) کو نہیں بھولا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4268]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1649 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، زَهْدَمٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: " مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى، فَقُلْنَا إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہمیں سلیمان تیمی سے خبر دی، انہوں نے ضرب بن نقیر قیسی سے، انہوں نے زہدم سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں، اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف سفید کوہان والے تین (جوڑے) اونٹ بھیجے تو ہم نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آپ سے سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی، چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو (آپ کی قسم کے بارے میں) خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا، پھر اس کے علاوہ کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4269 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، زَهْدَمٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: " مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى، فَقُلْنَا إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہمیں سلیمان تیمی سے خبر دی، انہوں نے ضرب بن نقیر قیسی سے، انہوں نے زہدم سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں، اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف سفید کوہان والے تین (جوڑے) اونٹ بھیجے تو ہم نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آپ سے سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی، چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو (آپ کی قسم کے بارے میں) خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا، پھر اس کے علاوہ کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1649 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى التَّيْمِيُّ ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَبُو السَّلِيلِ ، زَهْدَمٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ زَهْدَمٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنَّا مُشَاةً، فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ہمیں ابوسلیل (ضریب) نے زہدم سے حدیث بیان کی، وہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہم پیدل تھے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم آپ سے سواریاں حاصل کرنا چاہتے تھے، (آگے اسی طرح ہے) جس طرح جریر کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4270]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4270 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى التَّيْمِيُّ ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَبُو السَّلِيلِ ، زَهْدَمٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ زَهْدَمٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنَّا مُشَاةً، فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ہمیں ابوسلیل (ضریب) نے زہدم سے حدیث بیان کی، وہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہم پیدل تھے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم آپ سے سواریاں حاصل کرنا چاہتے تھے، (آگے اسی طرح ہے) جس طرح جریر کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4270]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1650 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَعْتَمَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَوَجَدَ الصِّبْيَةَ قَدْ نَامُوا، فَأَتَاهُ أَهْلُهُ بِطَعَامِهِ، فَحَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ أَجْلِ صِبْيَتِهِ، ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَأَكَلَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِهَا وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی رات کی تاریکی گہری ہونے تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس رہا، پھر اپنے گھر لوٹا تو اس نے بچوں کو سویا ہوا پایا، اس کی بیوی اس کے پاس کھانا لائی تو اس نے قسم کھائی کہ وہ بچوں (کے سو جانے) کی وجہ سے کھانا نہیں کھائے گا، پھر اسے (دوسرا) خیال آیا تو اس نے کھانا کھا لیا، اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی قسم کھائی، پھر اس نے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو وہ وہی کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4271]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4271 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَعْتَمَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَوَجَدَ الصِّبْيَةَ قَدْ نَامُوا، فَأَتَاهُ أَهْلُهُ بِطَعَامِهِ، فَحَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ أَجْلِ صِبْيَتِهِ، ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَأَكَلَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِهَا وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی رات کی تاریکی گہری ہونے تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس رہا، پھر اپنے گھر لوٹا تو اس نے بچوں کو سویا ہوا پایا، اس کی بیوی اس کے پاس کھانا لائی تو اس نے قسم کھائی کہ وہ بچوں (کے سو جانے) کی وجہ سے کھانا نہیں کھائے گا، پھر اسے (دوسرا) خیال آیا تو اس نے کھانا کھا لیا، اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی قسم کھائی، پھر اس نے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو وہ وہی کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4271]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1650 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَالِكٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے سہیل بن ابی صالح سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی قسم کھائی، پھر اس کے بجائے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کیا تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4272]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4272 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَالِكٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے سہیل بن ابی صالح سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی قسم کھائی، پھر اس کے بجائے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کیا تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کر لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4272]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة