بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1649 — باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل کا مکروہ ہونا۔ اس حکم میں سنت مؤکدہ مثلاً صبح اور ظہر کی سنتیں اور سنت غیر مؤکدہ برابر ہیں نیز نمازی کو امام کے ساتھ رکعت ملنے کا علم ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں۔
کتب صحیح مسلم مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل کا مکروہ ہونا۔ اس حکم میں سنت مؤکدہ مثلاً صبح اور ظہر کی سنتیں اور سنت غیر مؤکدہ برابر ہیں نیز نمازی کو امام کے ساتھ رکعت ملنے کا علم ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں۔ حدیث 1649
حدیث نمبر: 1649 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي، وَقَدْ أُقِيمَتِ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، أَحَطْنَا نَقُولُ: مَاذَا؟ قَالَ: لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ لِي: " يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ أَرْبَعًا "، قَالَ: الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے اور انہوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا جب صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، آپ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی، ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیر لیا، ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ اس نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا۔ قعنبی نے کہا: عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی۔ ابوالحسین مسلم رحمہ اللہ (مولف کتاب) نے کہا: قعنبی کا اس حدیث میں «عَنْ أَبِيهِ» (والد سے روایت کی) کہنا درست نہیں۔ (عبداللہ کے والد صحابی مالک صحابی تو ہیں لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں) [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1649]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1648) باب پر واپس اگلی حدیث (1650) →