بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم وصیت کے احکام و مسائل باب: صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 1630 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ، فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ؟، قَالَ: نَعَمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: میرے والد فوت ہو گئے ہیں، انہوں نے مال چھوڑا ہے اور وصیت نہیں کی، اگر (یہ مال) ان کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے تو کیا (یہ) ان کی طرف سے کفارہ بنے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4219]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4219 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ، فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ؟، قَالَ: نَعَمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: میرے والد فوت ہو گئے ہیں، انہوں نے مال چھوڑا ہے اور وصیت نہیں کی، اگر (یہ مال) ان کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے تو کیا (یہ) ان کی طرف سے کفارہ بنے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4219]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1004 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَلِي أَجْرٌ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: میری والدہ اچانک وفات پا گئیں، مجھے ان کے بارے میں یقین ہے کہ اگر وہ بات کرتیں تو صدقہ کرتیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا میرے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4220]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4220 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَلِي أَجْرٌ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: میری والدہ اچانک وفات پا گئیں، مجھے ان کے بارے میں یقین ہے کہ اگر وہ بات کرتیں تو صدقہ کرتیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا میرے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4220]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1004 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بشر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں اور وصیت نہیں کر سکیں، مجھے ان کے بارے میں یقین ہے کہ اگر وہ کلام کرتیں تو ضرور صدقہ کرتیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا ان کے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4221]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4221 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بشر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں اور وصیت نہیں کر سکیں، مجھے ان کے بارے میں یقین ہے کہ اگر وہ کلام کرتیں تو ضرور صدقہ کرتیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا ان کے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4221]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1004 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، رَوْحٌ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ح، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ، وَرَوْحٌ، فَفِي حَدِيثِهِمَا: فَهَلْ لِي أَجْرٌ، كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَأَمَّا شُعَيْبٌ، وَجَعْفَرٌ، فَفِي حَدِيثِهِمَا: أَفَلَهَا أَجْرٌ كَرِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ، شعیب بن اسحاق، روح بن قاسم اور جعفر بن عون، سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ابواسامہ اور روح کی حدیث میں ہے: کیا میرے لیے اجر ہے؟ جس طرح یحییٰ بن سعید نے کہا۔ اور شعیب اور جعفر کی حدیث میں ہے: کیا ان کے لیے اجر ہے؟ جس طرح محمد بن بشر کی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4222]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 4222 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، رَوْحٌ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ح، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ، وَرَوْحٌ، فَفِي حَدِيثِهِمَا: فَهَلْ لِي أَجْرٌ، كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَأَمَّا شُعَيْبٌ، وَجَعْفَرٌ، فَفِي حَدِيثِهِمَا: أَفَلَهَا أَجْرٌ كَرِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ، شعیب بن اسحاق، روح بن قاسم اور جعفر بن عون، سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ابواسامہ اور روح کی حدیث میں ہے: کیا میرے لیے اجر ہے؟ جس طرح یحییٰ بن سعید نے کہا۔ اور شعیب اور جعفر کی حدیث میں ہے: کیا ان کے لیے اجر ہے؟ جس طرح محمد بن بشر کی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4222]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة