بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم لین دین کے مسائل باب: سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 1547 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟، فَقَالَ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حنظلہ بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ کہا: میں نے پوچھا: کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی؟ انہوں نے جواب دیا: البتہ سونے اور چاندی کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3951]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3951 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟، فَقَالَ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حنظلہ بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ کہا: میں نے پوچھا: کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی؟ انہوں نے جواب دیا: البتہ سونے اور چاندی کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3951]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1547 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ، فَلَا بَأْسَ بِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اوزاعی نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حنظلہ بن قیس انصاری نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی (دینار اور درہم) کے عوض زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں لوگ نہروں کی زمین، چھوٹے نالوں کے کناروں کی زمین اور (متعین مقدار میں) فصل کی کچھ اشیاء کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے۔ کبھی یہ (حصہ) تباہ ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہو جاتا، لوگوں میں بٹائی (کرائے پر دینے) کی صرف یہی صورت تھی، اسی لیے اس سے منع کیا گیا، البتہ معلوم اور محفوظ چیز جس کی ادایگی کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3952]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3952 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ، فَلَا بَأْسَ بِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اوزاعی نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حنظلہ بن قیس انصاری نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی (دینار اور درہم) کے عوض زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں لوگ نہروں کی زمین، چھوٹے نالوں کے کناروں کی زمین اور (متعین مقدار میں) فصل کی کچھ اشیاء کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے۔ کبھی یہ (حصہ) تباہ ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہو جاتا، لوگوں میں بٹائی (کرائے پر دینے) کی صرف یہی صورت تھی، اسی لیے اس سے منع کیا گیا، البتہ معلوم اور محفوظ چیز جس کی ادایگی کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3952]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1547 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، قَالَ: " كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ، وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ، فَلَمْ يَنْهَنَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حنظلہ زُرَقی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انصار میں سب سے زیادہ ہمارے کھیت تھے۔ کہا: ہم زمین کو اس شرط پر کرائے پر دیتے کہ یہ (حصہ) ہمارے لیے ہے اور وہ (حصہ) ان کے لیے ہے، بسا اوقات اس حصے میں پیداوار ہوتی اور اس میں نہ ہوتی، تو آپ نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ البتہ آپ نے ہمیں چاندی کے عوض دینے سے منع نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3953]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3953 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، قَالَ: " كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ، وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ، فَلَمْ يَنْهَنَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حنظلہ زُرَقی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انصار میں سب سے زیادہ ہمارے کھیت تھے۔ کہا: ہم زمین کو اس شرط پر کرائے پر دیتے کہ یہ (حصہ) ہمارے لیے ہے اور وہ (حصہ) ان کے لیے ہے، بسا اوقات اس حصے میں پیداوار ہوتی اور اس میں نہ ہوتی، تو آپ نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ البتہ آپ نے ہمیں چاندی کے عوض دینے سے منع نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3953]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1547 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادٌ ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد اور یزید بن ہارون نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3954]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3954 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادٌ ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد اور یزید بن ہارون نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3954]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة