بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ کی ممانعت اور پھل کی بیع قبل صلاحیت کے اور معاومہ کا منع ہونا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم لین دین کے مسائل باب: محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ کی ممانعت اور پھل کی بیع قبل صلاحیت کے اور معاومہ کا منع ہونا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 1536 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنْ: الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، إِلَّا الْعَرَايَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محاقالہ، مزابنہ، مخابرہ اور (پکنے کی) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا اور (حکم دیا کہ) عرایا (کی بیع) کے سوا (پھل یا کھیتی کو) صرف دینار اور درہم کے عوض ہی فروخت کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3908]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3908 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنْ: الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، إِلَّا الْعَرَايَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محاقالہ، مزابنہ، مخابرہ اور (پکنے کی) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا اور (حکم دیا کہ) عرایا (کی بیع) کے سوا (پھل یا کھیتی کو) صرف دینار اور درہم کے عوض ہی فروخت کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3908]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1536 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعاصم نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے عطاء اور ابوزبیر سے خبر دی، ان دونوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا۔۔۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3909]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3909 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعاصم نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے عطاء اور ابوزبیر سے خبر دی، ان دونوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا۔۔۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3909]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1536 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُطْعِمَ، وَلَا تُبَاعُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ، إِلَّا الْعَرَايَا ". قَالَ عَطَاءٌ: فَسَّرَ لَنَا جَابِرٌ، قَالَ: أَمَّا الْمُخَابَرَةُ: فَالْأَرْضُ الْبَيْضَاءُ، يَدْفَعُهَا الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُل، فَيُنْفِقُ فِيهَا، ثُمَّ يَأْخُذُ مِنَ الثَّمَرِ، وَزَعَمَ أَنَّ الْمُزَابَنَةَ: بَيْعُ الرُّطَبِ فِي النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ: عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ يَبِيعُ الزَّرْعَ الْقَائِمَ بِالْحَبِّ كَيْلًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مخلد بن یزید جزری نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ، مزابنہ اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کی فروخت کرنے سے منع فرمایا اور (حکم دیا کہ پھلوں اور اجناس کی) صرف درہم و دینار ہی سے بیع کی جائے، سوائے عرایا کے۔ عطاء نے کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ان الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: مخابرہ سے مراد وہ چٹیل زمین ہے جو ایک آدمی دوسرے کے حوالے کرے تو وہ اس میں خرچ کرے، پھر وہ (زمین دینے والا) اس کی پیداوار میں سے حصہ لے۔ اور ان کا خیال ہے کہ مزابنہ سے مراد کھجور پر لگی ہوئی تازہ کھجور کی خشک کھجور (کی معینہ مقدار) کے عوض بیع ہے اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی کھڑی فصل کو ماپے ہوئے غلے کے عوض بیچ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3910]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3910 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُطْعِمَ، وَلَا تُبَاعُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ، إِلَّا الْعَرَايَا ". قَالَ عَطَاءٌ: فَسَّرَ لَنَا جَابِرٌ، قَالَ: أَمَّا الْمُخَابَرَةُ: فَالْأَرْضُ الْبَيْضَاءُ، يَدْفَعُهَا الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُل، فَيُنْفِقُ فِيهَا، ثُمَّ يَأْخُذُ مِنَ الثَّمَرِ، وَزَعَمَ أَنَّ الْمُزَابَنَةَ: بَيْعُ الرُّطَبِ فِي النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ: عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ يَبِيعُ الزَّرْعَ الْقَائِمَ بِالْحَبِّ كَيْلًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مخلد بن یزید جزری نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ، مزابنہ اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کی فروخت کرنے سے منع فرمایا اور (حکم دیا کہ پھلوں اور اجناس کی) صرف درہم و دینار ہی سے بیع کی جائے، سوائے عرایا کے۔ عطاء نے کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ان الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: مخابرہ سے مراد وہ چٹیل زمین ہے جو ایک آدمی دوسرے کے حوالے کرے تو وہ اس میں خرچ کرے، پھر وہ (زمین دینے والا) اس کی پیداوار میں سے حصہ لے۔ اور ان کا خیال ہے کہ مزابنہ سے مراد کھجور پر لگی ہوئی تازہ کھجور کی خشک کھجور (کی معینہ مقدار) کے عوض بیع ہے اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی کھڑی فصل کو ماپے ہوئے غلے کے عوض بیچ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3910]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1536 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ خَلَفٍ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، قَالَ ابْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَأَنْ تُشْتَرَى النَّخْلُ حَتَّى تُشْقِهَ "، وَالْإِشْقَاهُ: أَنْ يَحْمَرَّ، أَوْ يَصْفَرَّ، أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يُبَاعَ الْحَقْلُ بِكَيْلٍ مِنَ الطَّعَامِ مَعْلُومٍ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ بِأَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَالْمُخَابَرَةُ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ، قَالَ زَيْدٌ: قُلْتُ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ هَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زید بن ابی انیسہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابوولید مکی نے حدیث بیان کی جبکہ وہ عطاء بن ابی رباح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں (زید) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ اشقاہ سے پہلے (درخت پر لگا ہوا) کھجور (کا پھل) خریدا جائے۔ اشقاہ یہ ہے کہ اس میں سرخی یا زردی پیدا ہو جائے یا اس میں سے کچھ کھایا جا سکے (سارا پھل بیک وقت نہیں بکتا، کچھ کھانے کے قابل ہو جائے تو بیع جائز ہے)۔ اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بیع غلے کی متعین مقدار (صاع، وسق وغیرہ یا وزن) کے ساتھ کی جائے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کی بیع خشک کھجور کی (ماپ یا تول کے ذریعے سے) متعین مقدار کے ساتھ کی جائے اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو (جواز کی شروط پوری کیے بغیر) تہائی، چوتھائی یا اس طرح کے (کسی متعین) حصے کے عوض (بٹائی پر) دیا جائے۔ زید نے کہا: میں نے (ساتھ بیٹھے) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ نے (بھی) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3911]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3911 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ خَلَفٍ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، قَالَ ابْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَأَنْ تُشْتَرَى النَّخْلُ حَتَّى تُشْقِهَ "، وَالْإِشْقَاهُ: أَنْ يَحْمَرَّ، أَوْ يَصْفَرَّ، أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يُبَاعَ الْحَقْلُ بِكَيْلٍ مِنَ الطَّعَامِ مَعْلُومٍ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ بِأَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَالْمُخَابَرَةُ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ، قَالَ زَيْدٌ: قُلْتُ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ هَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زید بن ابی انیسہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابوولید مکی نے حدیث بیان کی جبکہ وہ عطاء بن ابی رباح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں (زید) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ اشقاہ سے پہلے (درخت پر لگا ہوا) کھجور (کا پھل) خریدا جائے۔ اشقاہ یہ ہے کہ اس میں سرخی یا زردی پیدا ہو جائے یا اس میں سے کچھ کھایا جا سکے (سارا پھل بیک وقت نہیں بکتا، کچھ کھانے کے قابل ہو جائے تو بیع جائز ہے)۔ اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بیع غلے کی متعین مقدار (صاع، وسق وغیرہ یا وزن) کے ساتھ کی جائے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کی بیع خشک کھجور کی (ماپ یا تول کے ذریعے سے) متعین مقدار کے ساتھ کی جائے اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو (جواز کی شروط پوری کیے بغیر) تہائی، چوتھائی یا اس طرح کے (کسی متعین) حصے کے عوض (بٹائی پر) دیا جائے۔ زید نے کہا: میں نے (ساتھ بیٹھے) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ نے (بھی) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3911]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1536 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، بَهْزٌ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقِحَ "، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدٍ: مَا تُشْقِحُ؟ قَالَ: تَحْمَارُّ، وَتَصْفَارُّ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیم بن حیان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن میناء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ، مخابرہ اور رنگ تبدیل ہونے (اشقاح) سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا۔ (سلیم بن حیان نے) کہا: میں نے سعید سے پوچھا: اشقاح سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ان میں سرخی اور زردی پیدا ہو جائے اور اس میں سے کھایا جا سکے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3912]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3912 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، بَهْزٌ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقِحَ "، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدٍ: مَا تُشْقِحُ؟ قَالَ: تَحْمَارُّ، وَتَصْفَارُّ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیم بن حیان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن میناء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ، مخابرہ اور رنگ تبدیل ہونے (اشقاح) سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا۔ (سلیم بن حیان نے) کہا: میں نے سعید سے پوچھا: اشقاح سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ان میں سرخی اور زردی پیدا ہو جائے اور اس میں سے کھایا جا سکے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3912]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1536 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، قَالَ أَحَدُهُمَا: بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ: الْمُعَاوَمَةُ، وَعَنِ الثُّنْيَا، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ایوب نے ابوزبیر اور سعید بن میناء سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، معاومہ، مخابرہ۔۔ ان دونوں (ابوزبیر اور سعید) میں سے ایک نے کہا: کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے۔ اور استثاء والی بیر سے منع فرمایا اور عرایا (کو خشک پھل کے عوض بیچنے) کی اجازت دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3913]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3913 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، قَالَ أَحَدُهُمَا: بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ: الْمُعَاوَمَةُ، وَعَنِ الثُّنْيَا، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ایوب نے ابوزبیر اور سعید بن میناء سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، معاومہ، مخابرہ۔۔ ان دونوں (ابوزبیر اور سعید) میں سے ایک نے کہا: کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے۔ اور استثاء والی بیر سے منع فرمایا اور عرایا (کو خشک پھل کے عوض بیچنے) کی اجازت دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3913]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1536 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ بَيْعُ السِّنِينَ: هِيَ الْمُعَاوَمَةُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی۔۔ اسی کے مانند، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3914]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3914 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ بَيْعُ السِّنِينَ: هِيَ الْمُعَاوَمَةُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی۔۔ اسی کے مانند، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3914]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة