بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 3911 — باب: محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ کی ممانعت اور پھل کی بیع قبل صلاحیت کے اور معاومہ کا منع ہونا۔
کتب صحیح مسلم لین دین کے مسائل باب: محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ کی ممانعت اور پھل کی بیع قبل صلاحیت کے اور معاومہ کا منع ہونا۔ حدیث 3911
حدیث نمبر: 3911 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ خَلَفٍ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، قَالَ ابْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَأَنْ تُشْتَرَى النَّخْلُ حَتَّى تُشْقِهَ "، وَالْإِشْقَاهُ: أَنْ يَحْمَرَّ، أَوْ يَصْفَرَّ، أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يُبَاعَ الْحَقْلُ بِكَيْلٍ مِنَ الطَّعَامِ مَعْلُومٍ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ بِأَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَالْمُخَابَرَةُ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ، قَالَ زَيْدٌ: قُلْتُ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ هَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زید بن ابی انیسہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابوولید مکی نے حدیث بیان کی جبکہ وہ عطاء بن ابی رباح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں (زید) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ اشقاہ سے پہلے (درخت پر لگا ہوا) کھجور (کا پھل) خریدا جائے۔ اشقاہ یہ ہے کہ اس میں سرخی یا زردی پیدا ہو جائے یا اس میں سے کچھ کھایا جا سکے (سارا پھل بیک وقت نہیں بکتا، کچھ کھانے کے قابل ہو جائے تو بیع جائز ہے)۔ اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بیع غلے کی متعین مقدار (صاع، وسق وغیرہ یا وزن) کے ساتھ کی جائے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کی بیع خشک کھجور کی (ماپ یا تول کے ذریعے سے) متعین مقدار کے ساتھ کی جائے اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو (جواز کی شروط پوری کیے بغیر) تہائی، چوتھائی یا اس طرح کے (کسی متعین) حصے کے عوض (بٹائی پر) دیا جائے۔ زید نے کہا: میں نے (ساتھ بیٹھے) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ نے (بھی) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3911]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (3910) باب پر واپس اگلی حدیث (3912) →