بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غلام اپنے آزاد کرنے والے کے سوا اور کسی کو مولیٰ نہیں بنا سکتا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم غلامی سے آزادی کا بیان باب: غلام اپنے آزاد کرنے والے کے سوا اور کسی کو مولیٰ نہیں بنا سکتا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1507 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ، ثُمَّ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُتَوَالَى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، ثُمَّ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (میثاقِ مدینہ میں) دیتوں (عقول) کی ادائیگی قبیلے کی ہر شاخ پر لازم ٹھہرائی، پھر آپ نے لکھا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی (اور) مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کے (مولیٰ) غلام کو اپنا مولیٰ (حقِ ولاء رکھنے والا) بنا لے۔ پھر مجھے خبر دی گئی کہ آپ نے، اپنے صحیفے میں، اس شخص پر جو یہ کام کرے، لعنت بھیجی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3790]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3790 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ، ثُمَّ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُتَوَالَى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، ثُمَّ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (میثاقِ مدینہ میں) دیتوں (عقول) کی ادائیگی قبیلے کی ہر شاخ پر لازم ٹھہرائی، پھر آپ نے لکھا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی (اور) مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کے (مولیٰ) غلام کو اپنا مولیٰ (حقِ ولاء رکھنے والا) بنا لے۔ پھر مجھے خبر دی گئی کہ آپ نے، اپنے صحیفے میں، اس شخص پر جو یہ کام کرے، لعنت بھیجی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3790]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1508 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل نے اپنے والد (صالح سمان) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی (دوسری) قوم کی ولاء اختیار کی، اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی لعنت ہے۔ اور (قیامت کے روز) اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی نہ فدیہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3791]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3791 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل نے اپنے والد (صالح سمان) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی (دوسری) قوم کی ولاء اختیار کی، اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی لعنت ہے۔ اور (قیامت کے روز) اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی نہ فدیہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3791]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1508 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، زَائِدَةَ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زائدہ نے سلیمان (اعمش) سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی (دوسری) قوم کی ولاء اختیار کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اور قیامت کے دن اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کوئی سفارش۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3792]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3792 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، زَائِدَةَ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زائدہ نے سلیمان (اعمش) سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی (دوسری) قوم کی ولاء اختیار کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اور قیامت کے دن اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کوئی سفارش۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3792]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1508 صحیح مسلم
إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، الْأَعْمَشِ
وحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَمَنْ وَالَى غَيْرَ مَوَالِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شیبان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کے سوا، ان کی اجازت کے بغیر کسی اور کے ساتھ موالات کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3793]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3793 صحیح مسلم
إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، الْأَعْمَشِ
وحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَمَنْ وَالَى غَيْرَ مَوَالِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شیبان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کے سوا، ان کی اجازت کے بغیر کسی اور کے ساتھ موالات کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3793]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1370 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ، فَقَدْ كَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابراہیم تیمی کے والد یزید بن شریک سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: جس کا گمان ہے کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے سوا۔۔ کہا: وہ صحیفہ ان کی تلوار کی نیام سے لٹکا ہوا تھا۔۔ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹا ہے۔ اس میں (دیت وغیرہ کے) اونٹوں کی عمریں اور زخموں (کی دیت) سے متعلقہ کچھ چیزیں (لکھی ہوئی) ہیں۔ اور اس میں (یہ لکھا ہوا ہے کہ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جبل عیر سے لے کر جبل ثور تک مدینہ حرم ہے، جس نے اس میں (گمراہی پھیلانے کی) کوئی واردات کی یا واردات کرنے والے کسی شخص کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ بدلہ۔ تمام مسلمانوں کی پناہ ایک ہے۔ ان کا ادنیٰ آدمی بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے۔ جس نے اپنے والد کے سوا کسی کی طرف نسبت کی یا (کوئی غلام) اپنے آزاد کرنے والے مالکوں کے سوا کسی اور کا مولیٰ بنا، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ فدیہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3794]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3794 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ، فَقَدْ كَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابراہیم تیمی کے والد یزید بن شریک سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: جس کا گمان ہے کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے سوا۔۔ کہا: وہ صحیفہ ان کی تلوار کی نیام سے لٹکا ہوا تھا۔۔ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹا ہے۔ اس میں (دیت وغیرہ کے) اونٹوں کی عمریں اور زخموں (کی دیت) سے متعلقہ کچھ چیزیں (لکھی ہوئی) ہیں۔ اور اس میں (یہ لکھا ہوا ہے کہ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جبل عیر سے لے کر جبل ثور تک مدینہ حرم ہے، جس نے اس میں (گمراہی پھیلانے کی) کوئی واردات کی یا واردات کرنے والے کسی شخص کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ بدلہ۔ تمام مسلمانوں کی پناہ ایک ہے۔ ان کا ادنیٰ آدمی بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے۔ جس نے اپنے والد کے سوا کسی کی طرف نسبت کی یا (کوئی غلام) اپنے آزاد کرنے والے مالکوں کے سوا کسی اور کا مولیٰ بنا، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ فدیہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3794]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة