بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب:
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم لعان کا بیان باب:
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1492 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ : أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ، لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ، ومَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ عَاصِمٌ: لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا "، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ ابن شہاب سے روایت ہے، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: عاصم! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے کیا وہ اسے قتل کر دے، اس پر تو تم اسے (قصاصاً) قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ عاصم! میرے لیے اس مسئلے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھیے۔ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے (غیر پیش آمدہ) مسائل کو ناپسند فرمایا اور ان کی مذمت کی، یہاں تک کہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سے جو بات سنی وہ انہیں بہت گراں گزری۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ واپس اپنے گھر آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تو میرے پاس بھلائی (کی بات) نہیں لایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مسئلے کو جس کے متعلق میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا، ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں رکوں گا یہاں تک کہ میں (خود) اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کر لوں۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کی اس آدمی کے بارے میں کیا رائے ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کرے اور آپ (قصاصاً) اسے قتل کر دیں گے یا پھر وہ کیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں (قرآن) نازل ہو چکا ہے، تم جاؤ اور اسے لے کر آؤ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دونوں نے آپس میں لعان کیا، میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، جب وہ دونوں (لعان سے) فارغ ہوئے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں نے (اب) اس کو اپنے پاس رکھا تو (گویا) میں نے اس پر جھوٹ بولا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی انہوں نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب نے کہا: اس کے بعد یہی لعان کرنے والوں کا (شرعی) طریقہ ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3743]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3743 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ : أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ، لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ، ومَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ عَاصِمٌ: لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا "، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ ابن شہاب سے روایت ہے، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: عاصم! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے کیا وہ اسے قتل کر دے، اس پر تو تم اسے (قصاصاً) قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ عاصم! میرے لیے اس مسئلے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھیے۔ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے (غیر پیش آمدہ) مسائل کو ناپسند فرمایا اور ان کی مذمت کی، یہاں تک کہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سے جو بات سنی وہ انہیں بہت گراں گزری۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ واپس اپنے گھر آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تو میرے پاس بھلائی (کی بات) نہیں لایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مسئلے کو جس کے متعلق میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا، ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں رکوں گا یہاں تک کہ میں (خود) اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کر لوں۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کی اس آدمی کے بارے میں کیا رائے ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کرے اور آپ (قصاصاً) اسے قتل کر دیں گے یا پھر وہ کیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں (قرآن) نازل ہو چکا ہے، تم جاؤ اور اسے لے کر آؤ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دونوں نے آپس میں لعان کیا، میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، جب وہ دونوں (لعان سے) فارغ ہوئے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں نے (اب) اس کو اپنے پاس رکھا تو (گویا) میں نے اس پر جھوٹ بولا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی انہوں نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب نے کہا: اس کے بعد یہی لعان کرنے والوں کا (شرعی) طریقہ ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3743]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1492 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ، أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ حَامِلًا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، (کہا:) مجھے حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ بنو عجلان میں سے عویمر انصاری رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آگے انہوں نے امام مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، انہوں نے ان (ابن شہاب) کا یہ قول حدیث کے اندر شامل کر لیا: اس کے بعد خاوند کی بیوی سے جدائی لعان کرنے والوں کا (شرعی) طریقہ بن گئی۔ اور انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا: حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ عورت حاملہ تھی، اس کے بیٹے کو اس کی ماں کی نسبت سے پکارا جاتا تھا، پھر یہ طریقہ جاری ہو گیا کہ اللہ کے فرض کردہ حصے کے بقدر وہ (بیٹا) اس کا وارث بنے گا اور وہ (ماں) اس کی وارث بنے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3744]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3744 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ، أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ حَامِلًا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، (کہا:) مجھے حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ بنو عجلان میں سے عویمر انصاری رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آگے انہوں نے امام مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، انہوں نے ان (ابن شہاب) کا یہ قول حدیث کے اندر شامل کر لیا: اس کے بعد خاوند کی بیوی سے جدائی لعان کرنے والوں کا (شرعی) طریقہ بن گئی۔ اور انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا: حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ عورت حاملہ تھی، اس کے بیٹے کو اس کی ماں کی نسبت سے پکارا جاتا تھا، پھر یہ طریقہ جاری ہو گیا کہ اللہ کے فرض کردہ حصے کے بقدر وہ (بیٹا) اس کا وارث بنے گا اور وہ (ماں) اس کی وارث بنے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3744]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1492 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَعَنِ السُّنَّةِ فيهما، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَزَادَ فِيهِ، فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكُمُ التَّفْرِيقُ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے ابن شہاب نے، بنو ساعدہ کے فرد حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث کے حوالے سے لعان کرنے والوں اور ان کے بارے میں جو طریقہ رائج ہے اس کے متعلق بتایا کہ انصار میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے؟۔۔ آگے مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: ان دونوں نے، میری موجودگی میں، مسجد میں لعان کیا اور انہوں نے حدیث میں (یہ بھی) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اس نے اسے تین طلاقیں دے دیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی ہی میں اس سے جدا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر دو لعان کرنے والوں کے درمیان یہ تفریق ہی (شریعت کا حتمی طریقہ) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3745]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3745 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَعَنِ السُّنَّةِ فيهما، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَزَادَ فِيهِ، فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكُمُ التَّفْرِيقُ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے ابن شہاب نے، بنو ساعدہ کے فرد حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث کے حوالے سے لعان کرنے والوں اور ان کے بارے میں جو طریقہ رائج ہے اس کے متعلق بتایا کہ انصار میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے؟۔۔ آگے مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: ان دونوں نے، میری موجودگی میں، مسجد میں لعان کیا اور انہوں نے حدیث میں (یہ بھی) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اس نے اسے تین طلاقیں دے دیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی ہی میں اس سے جدا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر دو لعان کرنے والوں کے درمیان یہ تفریق ہی (شریعت کا حتمی طریقہ) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3745]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1493 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَمَضَيْتُ إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ: اسْتَأْذِنْ لِي، قَالَ: إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي، قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ، فَدَخَلْتُ، فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6، " فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ: " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ "، قَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا: " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ "، قَالَتْ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ، إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے سعید بن جبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معصب رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا، کیا ان دونوں کو جدا کر دیا جائے گا؟ کہا: (اس وقت) مجھے معلوم نہ تھا کہ (جواب میں) کیا کہوں، چنانچہ میں مکہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر گیا، میں نے غلام سے کہا: میرے لیے اجازت طلب کرو۔ اس نے کہا: وہ دوپہر کی نیند لے رہے ہیں۔ (اسی دوران میں) انہوں نے میری آواز سن لی تو انہوں نے پوچھا: ابن جبیر ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اندر آ جاؤ، اللہ کی قسم! تمہیں اس گھڑی کوئی ضرورت ہی (یہاں) لائی ہے۔ میں اندر داخل ہوا تو وہ ایک گدے پر لیٹے ہوئے تھے اور کھجور کی چھال بھرے ہوئے ایک تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کی: ابوعبدالرحمان! کیا لعان کرنے والوں کو آپس میں جدا کر دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! ہاں، اس کے بارے میں سب سے پہلے فلاں بن فلاں (عویمر بن حارث عجلانی) نے سوال کیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے پائے تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ بات کرے تو ایک بہت بڑے معاملے (قذف) کی بات کرے گا اور اگر وہ خاموش رہے تو اسی جیسے (ناقابلِ برداشت) معاملے میں خاموشی اختیار کرے گا۔ کہا: اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سکوت اختیار فرمایا اور اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر جب وہ اس (دن) کے بعد آپ کے پاس آیا تو کہنے لگا: میں نے جس کے بارے میں آپ سے سوال کیا تھا، اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں یہ آیات نازل کر دی تھیں: (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی، اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس (عورت) کو بلوایا۔ اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! وہ (خاوند) جھوٹا ہے۔ اس پر آپ نے مرد سے (لعان کی) ابتدا کی، اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر دوسری باری آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورت کو دی۔ تو اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ (خاوند) جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ (خاوند) سچوں میں سے ہے، تو اس (عورت) پر اللہ کا غضب ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کو الگ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3746]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3746 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَمَضَيْتُ إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ: اسْتَأْذِنْ لِي، قَالَ: إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي، قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ، فَدَخَلْتُ، فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6، " فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ: " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ "، قَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا: " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ "، قَالَتْ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ، إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے سعید بن جبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معصب رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا، کیا ان دونوں کو جدا کر دیا جائے گا؟ کہا: (اس وقت) مجھے معلوم نہ تھا کہ (جواب میں) کیا کہوں، چنانچہ میں مکہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر گیا، میں نے غلام سے کہا: میرے لیے اجازت طلب کرو۔ اس نے کہا: وہ دوپہر کی نیند لے رہے ہیں۔ (اسی دوران میں) انہوں نے میری آواز سن لی تو انہوں نے پوچھا: ابن جبیر ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اندر آ جاؤ، اللہ کی قسم! تمہیں اس گھڑی کوئی ضرورت ہی (یہاں) لائی ہے۔ میں اندر داخل ہوا تو وہ ایک گدے پر لیٹے ہوئے تھے اور کھجور کی چھال بھرے ہوئے ایک تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کی: ابوعبدالرحمان! کیا لعان کرنے والوں کو آپس میں جدا کر دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! ہاں، اس کے بارے میں سب سے پہلے فلاں بن فلاں (عویمر بن حارث عجلانی) نے سوال کیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے پائے تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ بات کرے تو ایک بہت بڑے معاملے (قذف) کی بات کرے گا اور اگر وہ خاموش رہے تو اسی جیسے (ناقابلِ برداشت) معاملے میں خاموشی اختیار کرے گا۔ کہا: اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سکوت اختیار فرمایا اور اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر جب وہ اس (دن) کے بعد آپ کے پاس آیا تو کہنے لگا: میں نے جس کے بارے میں آپ سے سوال کیا تھا، اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں یہ آیات نازل کر دی تھیں: (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی، اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس (عورت) کو بلوایا۔ اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! وہ (خاوند) جھوٹا ہے۔ اس پر آپ نے مرد سے (لعان کی) ابتدا کی، اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر دوسری باری آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورت کو دی۔ تو اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ (خاوند) جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ (خاوند) سچوں میں سے ہے، تو اس (عورت) پر اللہ کا غضب ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کو الگ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3746]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1493 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے حدیث سنائی، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا، کہا: معصب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کیا کہوں، چنانچہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: لعان کرنے والوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، کیا ان کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے گا۔۔ پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3747]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3747 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے حدیث سنائی، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا، کہا: معصب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کیا کہوں، چنانچہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: لعان کرنے والوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، کیا ان کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے گا۔۔ پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3747]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1493 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: " لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا ". قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ یحییٰ کے ہیں، یحییٰ نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے خبر دی جبکہ دوسروں نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی۔۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے فرمایا: تم دونوں کا (اصل) حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (اب) تمہارا اس (عورت) پر کوئی اختیار نہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے کوئی مال نہیں، اگر تم نے سچ بولا ہے تو یہ اس کے عوض ہے جو تم نے (اب تک) اس کی شرمگاہ کو اپنے لیے حلال کیے رکھا، اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو یہ (مال) تمہارے لیے اس کی نسبت بھی بعید تر ہے۔ زہیر نے اپنی روایت میں کہا: ہمیں سفیان نے عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3748]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3748 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: " لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا ". قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ یحییٰ کے ہیں، یحییٰ نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے خبر دی جبکہ دوسروں نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی۔۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے فرمایا: تم دونوں کا (اصل) حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (اب) تمہارا اس (عورت) پر کوئی اختیار نہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے کوئی مال نہیں، اگر تم نے سچ بولا ہے تو یہ اس کے عوض ہے جو تم نے (اب تک) اس کی شرمگاہ کو اپنے لیے حلال کیے رکھا، اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو یہ (مال) تمہارے لیے اس کی نسبت بھی بعید تر ہے۔ زہیر نے اپنی روایت میں کہا: ہمیں سفیان نے عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3748]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1493 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ: " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے دو افراد (میاں بیوی) کو ایک دوسرے سے جدا کیا اور فرمایا: اللہ (خوب) جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3749]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3749 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ: " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے دو افراد (میاں بیوی) کو ایک دوسرے سے جدا کیا اور فرمایا: اللہ (خوب) جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3749]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1493 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : عَنِ اللِّعَانِ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کے بارے میں پوچھا۔ اس کے بعد انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3750]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3750 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : عَنِ اللِّعَانِ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کے بارے میں پوچھا۔ اس کے بعد انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3750]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1493 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، عَزْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: لَمْ يُفَرِّقْ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ: " فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عزرہ نے سعید بن جبیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت معصب رضی اللہ عنہ نے لعان کرنے والوں کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا۔ سعید نے کہا: میں نے یہ بات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے دو افراد (میاں بیوی) کو ایک دوسرے سے جدا کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3751]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3751 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، عَزْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: لَمْ يُفَرِّقْ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ: " فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عزرہ نے سعید بن جبیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت معصب رضی اللہ عنہ نے لعان کرنے والوں کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا۔ سعید نے کہا: میں نے یہ بات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے دو افراد (میاں بیوی) کو ایک دوسرے سے جدا کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3751]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1494 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، لِمَالِك ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح، وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِك : حَدَّثَكَ نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ، قَالَ: نَعَمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا۔۔ اور الفاظ انہی کے ہیں۔۔ میں نے امام مالک سے پوچھا: کیا آپ سے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے (کے نسب) کو اس کی ماں کے ساتھ ملا دیا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3752]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3752 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، لِمَالِك ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح، وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِك : حَدَّثَكَ نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ، قَالَ: نَعَمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا۔۔ اور الفاظ انہی کے ہیں۔۔ میں نے امام مالک سے پوچھا: کیا آپ سے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے (کے نسب) کو اس کی ماں کے ساتھ ملا دیا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّعَانِ/حدیث: 3752]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة