بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عزل کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم نکاح کے احکام و مسائل باب: عزل کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، رَبِيعَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ، فقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَذْكُرُ الْعَزْلَ، فقَالَ: نَعَمْ، غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ، فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ، فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَقُلْنَا: نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا لَا نَسْأَلُهُ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَكُونُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ربیعہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے خبر دی، انہوں نے ابن محریز سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور ابوصرمہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے، ابوصرمہ نے ان سے سوال کیا اور کہا: ابوسعید! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں بنی مصطلق کے خلاف جنگ کی اور عرب کی چنیدہ عورتیں بطور غنیمت حاصل کیں، ہمیں (اپنی عورتوں سے) دور رہتے ہوئے کافی مدت ہو چکی تھی، اور ہم (ان عورتوں کے) فدیے کی بھی رغبت رکھتے تھے، ہم نے ارادہ کیا کہ (ان عورتوں سے) فائدہ اٹھائیں اور عزل کر لیں، ہم نے کہا: ہم یہ کام کریں بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہوں تو ان سے سوال بھی نہ کریں! چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم (عزل) نہ بھی کرو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ اللہ نے قیامت کے دن تک (پیدا) ہونے والی جس جان کی پیدائش لکھ دی ہے، وہ ضرور پیدا ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3544]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3544 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، رَبِيعَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ، فقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَذْكُرُ الْعَزْلَ، فقَالَ: نَعَمْ، غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ، فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ، فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَقُلْنَا: نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا لَا نَسْأَلُهُ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَكُونُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ربیعہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے خبر دی، انہوں نے ابن محریز سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور ابوصرمہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے، ابوصرمہ نے ان سے سوال کیا اور کہا: ابوسعید! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں بنی مصطلق کے خلاف جنگ کی اور عرب کی چنیدہ عورتیں بطور غنیمت حاصل کیں، ہمیں (اپنی عورتوں سے) دور رہتے ہوئے کافی مدت ہو چکی تھی، اور ہم (ان عورتوں کے) فدیے کی بھی رغبت رکھتے تھے، ہم نے ارادہ کیا کہ (ان عورتوں سے) فائدہ اٹھائیں اور عزل کر لیں، ہم نے کہا: ہم یہ کام کریں بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہوں تو ان سے سوال بھی نہ کریں! چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم (عزل) نہ بھی کرو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ اللہ نے قیامت کے دن تک (پیدا) ہونے والی جس جان کی پیدائش لکھ دی ہے، وہ ضرور پیدا ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3544]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، حدثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَى حَدِيثِ رَبِيعَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن عقبہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے اسی سند کے ساتھ ربیعہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: اللہ نے (پہلے ہی) لکھ دیا ہے کہ وہ قیامت کے دن تک کس کو پیدا کرنے والا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3545]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3545 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، حدثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَى حَدِيثِ رَبِيعَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن عقبہ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے اسی سند کے ساتھ ربیعہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: اللہ نے (پہلے ہی) لکھ دیا ہے کہ وہ قیامت کے دن تک کس کو پیدا کرنے والا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3545]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، جُوَيْرِيَةُ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حدثنا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا، فَكُنَّا نَعْزِلُ، ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فقَالَ لَنَا: " وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہری نے ابن محریز سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے ان (ابن محریز) کو خبر دی، ہمیں لونڈیاں حاصل ہوئیں تو (ان کے ساتھ) ہم عزل کرتے تھے، پھر ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ہمیں فرمایا: (کیا) تم ایسا کرتے ہو؟ تم ایسا کرتے ہو؟ (واقعی) تم ایسا کرتے ہو؟ کوئی جان نہیں جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہو مگر وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3546]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3546 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، جُوَيْرِيَةُ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حدثنا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا، فَكُنَّا نَعْزِلُ، ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فقَالَ لَنَا: " وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہری نے ابن محریز سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے ان (ابن محریز) کو خبر دی، ہمیں لونڈیاں حاصل ہوئیں تو (ان کے ساتھ) ہم عزل کرتے تھے، پھر ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ہمیں فرمایا: (کیا) تم ایسا کرتے ہو؟ تم ایسا کرتے ہو؟ (واقعی) تم ایسا کرتے ہو؟ کوئی جان نہیں جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہو مگر وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3546]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، شُعْبَةُ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحدثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے معبدبن سیرین سے، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (انس بن سیرین نے) کہا: میں نے ان (معبد) سے پوچھا: آپ نے یہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات کا کوئی نقصان نہیں کہ تم (ایسا) نہ کرو، یہ تو صرف تقدیر ہے (جو تم عزل کرو یا نہ کرو، بہرصورت پوری ہو کر رہے گی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3547]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3547 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، شُعْبَةُ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحدثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے معبدبن سیرین سے، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (انس بن سیرین نے) کہا: میں نے ان (معبد) سے پوچھا: آپ نے یہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات کا کوئی نقصان نہیں کہ تم (ایسا) نہ کرو، یہ تو صرف تقدیر ہے (جو تم عزل کرو یا نہ کرو، بہرصورت پوری ہو کر رہے گی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3547]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حدثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، قَالُوا جَمِيعًا: حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فِي الْعَزْلِ: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ، وَفِي رِوَايَةِ بَهْزٍ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر، خالد بن حارث، عبدالرحمٰن بن مہدی اور بہز، سب نے کہا: ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، مگر ان کی حدیث میں (اس طرح) ہے: انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے عزل کے بارے میں فرمایا: (اس میں) کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو، یہ تو بس تقدیر (کا معاملہ) ہے۔ بہز کی روایت میں ہے، شعبہ نے کہا: میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3548]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3548 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حدثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، قَالُوا جَمِيعًا: حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فِي الْعَزْلِ: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ، وَفِي رِوَايَةِ بَهْزٍ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر، خالد بن حارث، عبدالرحمٰن بن مہدی اور بہز، سب نے کہا: ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، مگر ان کی حدیث میں (اس طرح) ہے: انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے عزل کے بارے میں فرمایا: (اس میں) کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو، یہ تو بس تقدیر (کا معاملہ) ہے۔ بہز کی روایت میں ہے، شعبہ نے کہا: میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3548]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَا: حدثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَوْلُهُ: لَا عَلَيْكُمْ أَقْرَبُ إِلَى النَّهْيِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے ہمیں محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر بن مسعود سے روایت کی، اسے پیچھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تک لے گئے (ان سے روایت کی)، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو، یہ تو بس تقدیر (کا معاملہ) ہے۔ محمد (بن سیرین) نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قول: «لا علیکم» اس بات کا تم پر کوئی حرج نہیں ممانعت کے زیادہ قریب ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3549]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3549 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَا: حدثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَوْلُهُ: لَا عَلَيْكُمْ أَقْرَبُ إِلَى النَّهْيِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے ہمیں محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر بن مسعود سے روایت کی، اسے پیچھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تک لے گئے (ان سے روایت کی)، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو، یہ تو بس تقدیر (کا معاملہ) ہے۔ محمد (بن سیرین) نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قول: «لا علیکم» اس بات کا تم پر کوئی حرج نہیں ممانعت کے زیادہ قریب ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3549]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عَنْدَ َالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " وَمَا ذَاكُمْ؟ "، قَالُوا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ، فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، قَالَ: " فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "، قَالَ: ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ، فقَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن عون نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر انصاری سے روایت کی، اور اس حدیث کو پیچھے لے گئے اور اسے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس عزل کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اس سے) تمہارا مقصود کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: کسی آدمی کی بیوی ہے (بچے کو) دودھ پلا رہی ہوتی ہے، وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ اور کسی شخص کی لونڈی ہے وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں کہ تم ایسا نہ کرو، یہ (بچے کا پیدا ہونا یا نہ ہونا) تو تقدیر کا معاملہ ہے۔ ابن عون نے کہا: میں نے یہ حدیث حسن (بصری) کو سنائی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو گویا ڈانٹ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3550]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3550 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عَنْدَ َالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " وَمَا ذَاكُمْ؟ "، قَالُوا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ، فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، قَالَ: " فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "، قَالَ: ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ، فقَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن عون نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر انصاری سے روایت کی، اور اس حدیث کو پیچھے لے گئے اور اسے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس عزل کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اس سے) تمہارا مقصود کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: کسی آدمی کی بیوی ہے (بچے کو) دودھ پلا رہی ہوتی ہے، وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ اور کسی شخص کی لونڈی ہے وہ اس سے مباشرت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ وہ اس سے حاملہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں کہ تم ایسا نہ کرو، یہ (بچے کا پیدا ہونا یا نہ ہونا) تو تقدیر کا معاملہ ہے۔ ابن عون نے کہا: میں نے یہ حدیث حسن (بصری) کو سنائی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو گویا ڈانٹ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3550]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدًا ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثْتُ مُحَمَّدًا ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، يَعْنِي حَدِيثَ الْعَزْلِ، فقَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ابن عون سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حماد (بن سیرین) کو ابراہیم کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن بشر کی حدیث، یعنی عزل کی حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن بشر نے خود مجھے بھی یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3551]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3551 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدًا ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثْتُ مُحَمَّدًا ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، يَعْنِي حَدِيثَ الْعَزْلِ، فقَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ابن عون سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حماد (بن سیرین) کو ابراہیم کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن بشر کی حدیث، یعنی عزل کی حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن بشر نے خود مجھے بھی یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3551]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، لِأَبِي سَعِيدٍ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: قُلْنَا لِأَبِي سَعِيدٍ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، إِلَى قَوْلِهِ: الْقَدَرُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام نے ہمیں محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے معبدبن سیرین سے روایت کی، کہا: ہم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے عرض کی، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عزل کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آگے انہوں نے القدر (یہ تو تقدیر ہے) تک ابن عون کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3552]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3552 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، لِأَبِي سَعِيدٍ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: قُلْنَا لِأَبِي سَعِيدٍ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، إِلَى قَوْلِهِ: الْقَدَرُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام نے ہمیں محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے معبدبن سیرین سے روایت کی، کہا: ہم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے عرض کی، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عزل کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آگے انہوں نے القدر (یہ تو تقدیر ہے) تک ابن عون کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3552]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1438 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ أَبِي نَجِيح ، مُجَاهِدٍ ، قَزْعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: أَخْبَرَنا، وقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ، عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ "، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَا يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قزعہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایسا کیوں کرتا ہے؟۔۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے۔ حقیقت یہ ہے پیدا ہونے والی کوئی جان نہیں مگر اللہ اسے پیدا کرنے والا ہے۔ (وہ اسے ضرور پیدا کرے گا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3553]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3553 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ أَبِي نَجِيح ، مُجَاهِدٍ ، قَزْعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: أَخْبَرَنا، وقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ، عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ "، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَا يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قزعہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایسا کیوں کرتا ہے؟۔۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے۔ حقیقت یہ ہے پیدا ہونے والی کوئی جان نہیں مگر اللہ اسے پیدا کرنے والا ہے۔ (وہ اسے ضرور پیدا کرے گا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3553]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة