بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مہر کا بیان اور تعلیم قرآن اور مہر ٹھہرانے میں لوہے کا چھلا وغیرہ کے بیان میں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم نکاح کے احکام و مسائل باب: مہر کا بیان اور تعلیم قرآن اور مہر ٹھہرانے میں لوہے کا چھلا وغیرہ کے بیان میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1425 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حدثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . ح وَحدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَزَوِّجْنِيهَا، فقَالَ: " فَهَلْ عَنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ "، فقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ: " اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ، فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا "، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ "، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي، قَالَ سَهْلٌ: مَا لَهُ رِدَاءٌ، فَلَهَا نِصْفُهُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ "، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ "، قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا، فقَالَ: " تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ فَقَدْ مُلِّكْتكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِي اللَّفْظِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری اور عبدالعزیز بن ابی حازم نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنی ذات آپ کو ہبہ کرنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی، آپ اپنی نظر نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے تک لے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر مبارک جھکا لیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! اگر آپ کو اس (کے ساتھ شادی) کی ضرورت نہیں تو اس کی شادی میرے ساتھ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس (حق مہر میں دینے کے لیے) کوئی چیز ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! (کچھ) نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، دیکھو تمہیں کچھ ملتا ہے؟ وہ گیا پھر واپس آیا اور عرض کی: نہیں، اللہ کی قسم! مجھے کچھ نہیں ملا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو! چاہے لوہے کی انگوٹھی ہو۔ وہ گیا پھر واپس آیا، اور عرض کی، نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے، البتہ میری یہ تہبند ہے۔ سہل نے کہا: اس کے پاس (کندھے کی) چادر بھی نہیں تھی۔ اس میں سے آدھی (بطور مہر) اس کے لیے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے تہبند کا کیا کرے گی، اگر تم اسے پہنو گے تو اس (کے جسم) پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا اور اگر وہ پہنے گی تو تم پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا۔ اس پر وہ آدمی بیٹھ گیا۔ اسے بیٹھے ہوئے لمبا وقت ہو گیا تو وہ کھڑا ہو گیا (اور چل دیا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھ لیا۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاطر بلا لیا گیا، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس قرآن کتنا ہے؟ (تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟) اس نے عرض کی: میرے پاس فلاں سورت اور فلاں سورت ہے۔ اس نے وہ سورتیں شمار کیں۔ تو آپ نے پوچھا: تم انہیں زبانی پڑھتے ہو؟ اس نے عرض کی، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، تمہیں جتنا قرآن یاد ہے اس کے عوض (نکاح کے لیے) تمہیں اس کا مالک (خاوند) بنا دیا گیا ہے۔ یہ ابن ابی حازم کی حدیث ہے، یعقوب کی حدیث بھی الفاظ میں اسی کے قریب ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3487]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3487 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حدثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . ح وَحدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَزَوِّجْنِيهَا، فقَالَ: " فَهَلْ عَنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ "، فقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ: " اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ، فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا "، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ "، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي، قَالَ سَهْلٌ: مَا لَهُ رِدَاءٌ، فَلَهَا نِصْفُهُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ "، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ "، قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا، فقَالَ: " تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ فَقَدْ مُلِّكْتكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِي اللَّفْظِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری اور عبدالعزیز بن ابی حازم نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنی ذات آپ کو ہبہ کرنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی، آپ اپنی نظر نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے تک لے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر مبارک جھکا لیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! اگر آپ کو اس (کے ساتھ شادی) کی ضرورت نہیں تو اس کی شادی میرے ساتھ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس (حق مہر میں دینے کے لیے) کوئی چیز ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! (کچھ) نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، دیکھو تمہیں کچھ ملتا ہے؟ وہ گیا پھر واپس آیا اور عرض کی: نہیں، اللہ کی قسم! مجھے کچھ نہیں ملا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو! چاہے لوہے کی انگوٹھی ہو۔ وہ گیا پھر واپس آیا، اور عرض کی، نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے، البتہ میری یہ تہبند ہے۔ سہل نے کہا: اس کے پاس (کندھے کی) چادر بھی نہیں تھی۔ اس میں سے آدھی (بطور مہر) اس کے لیے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے تہبند کا کیا کرے گی، اگر تم اسے پہنو گے تو اس (کے جسم) پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا اور اگر وہ پہنے گی تو تم پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا۔ اس پر وہ آدمی بیٹھ گیا۔ اسے بیٹھے ہوئے لمبا وقت ہو گیا تو وہ کھڑا ہو گیا (اور چل دیا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھ لیا۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاطر بلا لیا گیا، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس قرآن کتنا ہے؟ (تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟) اس نے عرض کی: میرے پاس فلاں سورت اور فلاں سورت ہے۔ اس نے وہ سورتیں شمار کیں۔ تو آپ نے پوچھا: تم انہیں زبانی پڑھتے ہو؟ اس نے عرض کی، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، تمہیں جتنا قرآن یاد ہے اس کے عوض (نکاح کے لیے) تمہیں اس کا مالک (خاوند) بنا دیا گیا ہے۔ یہ ابن ابی حازم کی حدیث ہے، یعقوب کی حدیث بھی الفاظ میں اسی کے قریب ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3487]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1425 صحیح مسلم
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الدَّرَاوَرْدِيِّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
وحدثناه خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَائِدَةَ، قَالَ: انْطَلِقْ، فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا، فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید، سفیان بن عیینہ، دراوردی اور زائدہ سب نے ابوحازم سے، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی، ان میں سے کچھ راوی دوسروں پر اضافہ کرتے ہیں۔ مگر زائدہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی ہے، اس لیے (اب) تم اسے قرآن کی تعلیم دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3488]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3488 صحیح مسلم
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الدَّرَاوَرْدِيِّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
وحدثناه خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَائِدَةَ، قَالَ: انْطَلِقْ، فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا، فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید، سفیان بن عیینہ، دراوردی اور زائدہ سب نے ابوحازم سے، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی، ان میں سے کچھ راوی دوسروں پر اضافہ کرتے ہیں۔ مگر زائدہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی ہے، اس لیے (اب) تم اسے قرآن کی تعلیم دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3488]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1426 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، يَزِيدَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَت:" كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا"، قَالَت: أَتَدْرِي مَا النَّشُّ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَت: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ، (ام المؤمنین) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی بیویوں) کا مہر کتنا (ہوتا) تھا؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا۔ (پھر) انہوں نے پوچھا: جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں، انہوں نے کہا: آدھا اوقیہ، یہ کل پانچ سو درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مہر تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3489]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3489 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، يَزِيدَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَت:" كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا"، قَالَت: أَتَدْرِي مَا النَّشُّ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَت: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ، (ام المؤمنین) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی بیویوں) کا مہر کتنا (ہوتا) تھا؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا۔ (پھر) انہوں نے پوچھا: جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں، انہوں نے کہا: آدھا اوقیہ، یہ کل پانچ سو درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مہر تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3489]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1427 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فقَالَ: " مَا هَذَا؟ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے لباس) پر زرد (زعفران کی خوشبو کا) نشان دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! میں نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن پر ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے۔ ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری سے کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3490]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3490 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فقَالَ: " مَا هَذَا؟ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے لباس) پر زرد (زعفران کی خوشبو کا) نشان دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! میں نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن پر ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے۔ ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری سے کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3490]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1427 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وَحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حدثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3491]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3491 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وَحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حدثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3491]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1427 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا وَكِيعٌ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، وَأَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ لَهُ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ اور حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3492]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3492 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا وَكِيعٌ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، وَأَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ لَهُ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ اور حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3492]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1427 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو دَاوُدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، شَبَابَةُ ، شُعْبَةَ ، حُمَيْدٍ
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا أَبُو دَاوُدَ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حدثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حدثنا شَبَابَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداود، وہب بن جریر اور شبابہ سب نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حمید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، البتہ وہب کی حدیث میں یوں ہے: انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3493]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3493 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو دَاوُدَ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، شَبَابَةُ ، شُعْبَةَ ، حُمَيْدٍ
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا أَبُو دَاوُدَ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حدثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حدثنا شَبَابَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداود، وہب بن جریر اور شبابہ سب نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حمید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، البتہ وہب کی حدیث میں یوں ہے: انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3493]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1427 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسًا ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَا: أَخْبَرَنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ بَشَاشَةُ الْعُرْسِ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فقَالَ: " كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟ "، فَقُلْتُ: نَوَاةً، وَفِي حَدِيثِ إِسْحَاقَ: مِنْ ذَهَبٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن قدامہ نے کہا: ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھا جبکہ مجھ پر شادی کی بشاشت (خوشی) نمایاں تھی، میں نے عرض کی: میں نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا: تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟ میں نے عرض کی: ایک گٹھلی۔ اور اسحاق کی حدیث میں ہے: سونے کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3494]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3494 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسًا ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَا: أَخْبَرَنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ بَشَاشَةُ الْعُرْسِ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فقَالَ: " كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟ "، فَقُلْتُ: نَوَاةً، وَفِي حَدِيثِ إِسْحَاقَ: مِنْ ذَهَبٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن قدامہ نے کہا: ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھا جبکہ مجھ پر شادی کی بشاشت (خوشی) نمایاں تھی، میں نے عرض کی: میں نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا: تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟ میں نے عرض کی: ایک گٹھلی۔ اور اسحاق کی حدیث میں ہے: سونے کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3494]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1427 صحیح مسلم
ابْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَمْزَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحدثنا وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا أَبُو دَاوُدَ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ شُعْبَةُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداود نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ سے حدیث بیان کی۔ شعبہ نے کہا: ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عبداللہ (کیسان) ہے۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی گٹھلی کے وزن کے برابر (سونے) کے عوض ایک عورت سے شادی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3495]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3495 صحیح مسلم
ابْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَمْزَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحدثنا وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا أَبُو دَاوُدَ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ شُعْبَةُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوداود نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ سے حدیث بیان کی۔ شعبہ نے کہا: ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عبداللہ (کیسان) ہے۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی گٹھلی کے وزن کے برابر (سونے) کے عوض ایک عورت سے شادی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3495]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1427 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهْبٌ ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا وَهْبٌ ، أَخْبَرَنا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فقَالَ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: مِنْ ذَهَبٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہب نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سے ایک نے کہا: سونے کی (ایک گٹھلی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3496]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3496 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهْبٌ ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا وَهْبٌ ، أَخْبَرَنا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فقَالَ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: مِنْ ذَهَبٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہب نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سے ایک نے کہا: سونے کی (ایک گٹھلی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3496]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة