عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، أَبِي حُمَيْدٍ
حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِي الْقُرَى، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي مُسْرِعٌ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِي، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ "، فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فقَالَ: " هَذِهِ طَابَةُ وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ اور (آگے) حدیث بیان کی اس میں ہے پھر ہم (سفر سے واپس) آئے حتیٰ کہ ہم وادی میں پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی رفتار تیز کرنے والا ہوں، تم میں سے جو چاہے وہ میرے ساتھ تیزی سے آجائے اور جو چاہے وہ ٹھہر کر آجائے۔“ پھر ہم نکلے حتیٰ کہ جب بلندی سے ہماری نگاہ مدینہ پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طابہ (پاک کرنے والا شہر) ہے اور یہ احد ہے اور یہ پہاڑ (ایسا) ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3371]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة