بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قربانی کا جانور چلتے چلتے راستے میں تھک جائے تو کیا کیا جائے؟
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: قربانی کا جانور چلتے چلتے راستے میں تھک جائے تو کیا کیا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 1325 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ، قَالَ: وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا، فقَالَ: لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا، قَالَ: فَمَضَى، ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: " انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں عبدالوارث بن سعید نے ابوتیاح ضبعی سے خبر دی (کہا) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے (یہ سمجھنے سے) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ کیسے لائیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں بلد (امین مکہ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پوچھوں گا۔ (موسیٰ نے) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں تاکہ ہم ان سے بات کریں۔ کہا انہوں نے ان کو اپنی قربانی کے جانور کا حال بتایا تو انہوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس پہنچے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پاس قربانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنایا۔ کہا وہ (تھوڑی دور) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اس کے ساتھ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں ڈالے گئے) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انہیں (بطور نشانی) اس کے پہلو پر رکھ دینا۔ اور (احرام کی حالت میں) تم اور تمہارے ساتھ جانے والوں میں سے کوئی اس (کے گوشت میں) سے کچھ نہ کھائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3216]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3216 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ، قَالَ: وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا، فقَالَ: لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا، قَالَ: فَمَضَى، ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: " انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں عبدالوارث بن سعید نے ابوتیاح ضبعی سے خبر دی (کہا) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے (یہ سمجھنے سے) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ کیسے لائیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں بلد (امین مکہ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پوچھوں گا۔ (موسیٰ نے) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں تاکہ ہم ان سے بات کریں۔ کہا انہوں نے ان کو اپنی قربانی کے جانور کا حال بتایا تو انہوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس پہنچے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پاس قربانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنایا۔ کہا وہ (تھوڑی دور) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اس کے ساتھ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں ڈالے گئے) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انہیں (بطور نشانی) اس کے پہلو پر رکھ دینا۔ اور (احرام کی حالت میں) تم اور تمہارے ساتھ جانے والوں میں سے کوئی اس (کے گوشت میں) سے کچھ نہ کھائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3216]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1325 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَبِي التَّيَّاح ، مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحدثناه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاح ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی انہوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قربانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے۔۔۔ پھر عبدالوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، اور انہوں نے حدیث کا ابتدائی حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3217]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3217 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَبِي التَّيَّاح ، مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحدثناه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاح ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی انہوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قربانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے۔۔۔ پھر عبدالوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، اور انہوں نے حدیث کا ابتدائی حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3217]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1326 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حدثنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ، ثُمَّ يَقُولُ: " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا، فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا، وَلَا تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوقبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجتے پھر فرماتے اگر ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اور تمہیں اس کے مر جانے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں لٹکائے گئے) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے (کچھ) کھانا نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی (اس میں کھائے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3218]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3218 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حدثنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ، ثُمَّ يَقُولُ: " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا، فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا، وَلَا تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوقبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجتے پھر فرماتے اگر ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اور تمہیں اس کے مر جانے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں لٹکائے گئے) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے (کچھ) کھانا نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی (اس میں کھائے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3218]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة