بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 3216 — باب: قربانی کا جانور چلتے چلتے راستے میں تھک جائے تو کیا کیا جائے؟
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: قربانی کا جانور چلتے چلتے راستے میں تھک جائے تو کیا کیا جائے؟ حدیث 3216
حدیث نمبر: 3216 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ، قَالَ: وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا، فقَالَ: لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا، قَالَ: فَمَضَى، ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: " انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں عبدالوارث بن سعید نے ابوتیاح ضبعی سے خبر دی (کہا) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے (یہ سمجھنے سے) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ کیسے لائیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں بلد (امین مکہ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پوچھوں گا۔ (موسیٰ نے) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں تاکہ ہم ان سے بات کریں۔ کہا انہوں نے ان کو اپنی قربانی کے جانور کا حال بتایا تو انہوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس پہنچے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پاس قربانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنایا۔ کہا وہ (تھوڑی دور) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اس کے ساتھ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں ڈالے گئے) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انہیں (بطور نشانی) اس کے پہلو پر رکھ دینا۔ اور (احرام کی حالت میں) تم اور تمہارے ساتھ جانے والوں میں سے کوئی اس (کے گوشت میں) سے کچھ نہ کھائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3216]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (3215) باب پر واپس اگلی حدیث (3217) →