بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کا استحباب۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کا استحباب۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1280 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ، فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں (کریب) نے ان (حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے سنا، کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفہ روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو (سواری سے) نیچے اترے پیشاب سے فارغ ہوئے پھر وضو کیا اور زیادہ تکمیل کے ساتھ وضو نہیں کیا۔ میں نے آپ سے عرض کی: نماز؟ فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ اس کے بعد آپ (پھر) سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو آپ (سواری سے) نیچے اترے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے پڑاؤ کی جگہ میں بٹھایا، پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ نے وہ پڑھی۔ اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3099]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3099 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ، فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں (کریب) نے ان (حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے سنا، کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفہ روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو (سواری سے) نیچے اترے پیشاب سے فارغ ہوئے پھر وضو کیا اور زیادہ تکمیل کے ساتھ وضو نہیں کیا۔ میں نے آپ سے عرض کی: نماز؟ فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ اس کے بعد آپ (پھر) سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو آپ (سواری سے) نیچے اترے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے پڑاؤ کی جگہ میں بٹھایا، پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ نے وہ پڑھی۔ اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3099]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1280 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، فَقُلْتُ: أَتُصَلِّي، فَقَالَ: " الْمُصَلَّى أَمَامَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے زبیر کے مولیٰ موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند سے روایت کی کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: عرفہ سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی کی طرف چلے گئے (پھر) اس کے بعد میں نے (وضو کے لیے) آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا اور عرض کی، آپ نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3100]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3100 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، فَقُلْتُ: أَتُصَلِّي، فَقَالَ: " الْمُصَلَّى أَمَامَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے زبیر کے مولیٰ موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند سے روایت کی کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: عرفہ سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی کی طرف چلے گئے (پھر) اس کے بعد میں نے (وضو کے لیے) آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا اور عرض کی، آپ نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3100]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1280 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ: أَرَاقَ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، قَالَ: ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن مبارک نے ابراہیم بن عقبہ سے انہوں نے کریب مولیٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے (کنایتاً) کہا کہ آپ نے پانی نہیں بہایا۔۔۔ کہا: آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا وضو تھا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ کہا: پھر آپ چلے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں (اکٹھی) ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3101]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3101 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ: أَرَاقَ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، قَالَ: ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن مبارک نے ابراہیم بن عقبہ سے انہوں نے کریب مولیٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے (کنایتاً) کہا کہ آپ نے پانی نہیں بہایا۔۔۔ کہا: آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا وضو تھا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ کہا: پھر آپ چلے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں (اکٹھی) ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3101]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1280 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٌ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ، وَمَا قَالَ: أَهَرَاقَ الْمَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ، وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ حَلُّوا: قُلْتُ فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخیثمہ زہیر نے ہم سے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے کریب نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: عرفہ کی شام جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہوئے تو تم نے کیا کیا؟ کہا: ہم اس گھاٹی کے پاس آئے جہاں لوگ مغرب (کی نماز) کے لیے (اپنی سواریاں) بٹھاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے (کنایہ کرتے ہوئے) نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہایا۔ پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ اس کے بعد آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے مغرب کی اقامت کہلوائی۔ پھر سب لوگوں نے (اپنی سواریاں) اپنے پڑاؤ کی جگہوں میں بٹھا دیں اور انہوں نے ابھی (پالان) نہیں کھولے تھے کہ آپ نے عشاء کی اقامت کہلوائی، پھر انہوں نے (پالان) کھولے۔ میں نے کہا: جب تم نے صبح کی تو تم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہو گئے اور میں قریش کے آگے جانے والے لوگوں کے ساتھ پیدل گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3102]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3102 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٌ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ، وَمَا قَالَ: أَهَرَاقَ الْمَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ، وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ حَلُّوا: قُلْتُ فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخیثمہ زہیر نے ہم سے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے کریب نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: عرفہ کی شام جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہوئے تو تم نے کیا کیا؟ کہا: ہم اس گھاٹی کے پاس آئے جہاں لوگ مغرب (کی نماز) کے لیے (اپنی سواریاں) بٹھاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے (کنایہ کرتے ہوئے) نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہایا۔ پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ اس کے بعد آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے مغرب کی اقامت کہلوائی۔ پھر سب لوگوں نے (اپنی سواریاں) اپنے پڑاؤ کی جگہوں میں بٹھا دیں اور انہوں نے ابھی (پالان) نہیں کھولے تھے کہ آپ نے عشاء کی اقامت کہلوائی، پھر انہوں نے (پالان) کھولے۔ میں نے کہا: جب تم نے صبح کی تو تم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہو گئے اور میں قریش کے آگے جانے والے لوگوں کے ساتھ پیدل گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3102]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1280 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عقبہ نے کریب سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس درے پر تشریف لائے جہاں امراء (حکمران) اترتے ہیں۔ آپ (سواری سے) اترے اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے پانی بہایا کا لفظ نہیں کہا (بلکہ یوں کہا:) پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور ہلکا وضو کیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3103]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3103 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عقبہ نے کریب سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس درے پر تشریف لائے جہاں امراء (حکمران) اترتے ہیں۔ آپ (سواری سے) اترے اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے پانی بہایا کا لفظ نہیں کہا (بلکہ یوں کہا:) پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور ہلکا وضو کیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3103]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1280 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء مولیٰ بن سبا ع نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو وہ آپ کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے، جب آپ گھاٹی پر پہنچے، آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا، پھر قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، جب لوٹے تو میں نے ایک برتن سے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا، پھر آپ مزدلفہ آئے تو وہاں مغرب اور عشاء اکٹھی ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3104]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3104 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء مولیٰ بن سبا ع نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو وہ آپ کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے، جب آپ گھاٹی پر پہنچے، آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا، پھر قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، جب لوٹے تو میں نے ایک برتن سے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا، پھر آپ مزدلفہ آئے تو وہاں مغرب اور عشاء اکٹھی ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3104]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1286 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ، قَالَ أُسَامَةُ: فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفہ سے لوٹے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار تھے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسی حالت میں مسلسل چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3105]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3105 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ، قَالَ أُسَامَةُ: فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفہ سے لوٹے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار تھے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسی حالت میں مسلسل چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3105]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1286 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، حَمَّادٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ، وَأَنَا شَاهِدٌ، أَوَ قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا اور میں موجود تھا۔ یا کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات سے (واپسی پر) انہیں اپنے ساتھ پیچھے سوار کیا تھا۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو آپ کیسے چل رہے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم درمیانے درجے کی تیز رفتاری سے چلتے تھے، جب کشادہ جگہ پاتے تو (سواری کو) تیز دوڑاتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3106]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3106 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، حَمَّادٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ، وَأَنَا شَاهِدٌ، أَوَ قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا اور میں موجود تھا۔ یا کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات سے (واپسی پر) انہیں اپنے ساتھ پیچھے سوار کیا تھا۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو آپ کیسے چل رہے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم درمیانے درجے کی تیز رفتاری سے چلتے تھے، جب کشادہ جگہ پاتے تو (سواری کو) تیز دوڑاتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3106]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1286 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ، قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں یہ حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبدہ بن سلیمان، عبداللہ بن نمیر اور حمید بن عبدالرحمان نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حمید کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ہشام نے کہا: نص (تیز رفتاری میں) عنق سے اوپر کا درجہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3107]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3107 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ، قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں یہ حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبدہ بن سلیمان، عبداللہ بن نمیر اور حمید بن عبدالرحمان نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حمید کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ہشام نے کہا: نص (تیز رفتاری میں) عنق سے اوپر کا درجہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3107]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1287 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، أَبَا أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی، (کہا:) مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن یزید ختمی رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3108]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3108 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، أَبَا أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی، (کہا:) مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن یزید ختمی رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3108]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة