بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 3106 — باب: عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کا استحباب۔
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کا استحباب۔ حدیث 3106
حدیث نمبر: 3106 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، حَمَّادٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ، وَأَنَا شَاهِدٌ، أَوَ قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا اور میں موجود تھا۔ یا کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات سے (واپسی پر) انہیں اپنے ساتھ پیچھے سوار کیا تھا۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو آپ کیسے چل رہے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم درمیانے درجے کی تیز رفتاری سے چلتے تھے، جب کشادہ جگہ پاتے تو (سواری کو) تیز دوڑاتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3106]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (3105) باب پر واپس اگلی حدیث (3107) →