بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 1284 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، أَبِي ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُلَبِّي، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم سے یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ منیٰ سے عرفات گئے تو ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا اور کوئی تکبیریں کہنے والا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3095]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3095 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، أَبِي ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُلَبِّي، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم سے یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ منیٰ سے عرفات گئے تو ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا اور کوئی تکبیریں کہنے والا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3095]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1284 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ "، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْكُمْ كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ: مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمر بن حسین نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: عرفہ کی صبح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے ہم میں سے کوئی تکبیریں کہنے والا تھا اور کوئی «لا اله الا الله» کہنے والا تھا۔ البتہ ہم تکبیریں کہہ رہے تھے۔ (عبداللہ بن ابی سلمہ نے) کہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم پر تعجب ہے تم نے ان سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3096]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3096 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ "، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْكُمْ كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ: مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمر بن حسین نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: عرفہ کی صبح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے ہم میں سے کوئی تکبیریں کہنے والا تھا اور کوئی «لا اله الا الله» کہنے والا تھا۔ البتہ ہم تکبیریں کہہ رہے تھے۔ (عبداللہ بن ابی سلمہ نے) کہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم پر تعجب ہے تم نے ان سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3096]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1285 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے جب وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے دریافت کیا: آپ اس (عرفہ کے) دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کیسے (ذکر و عبادت) کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے تہلیل کہنے والا «لا اله الا الله» کہتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تھا۔ اور تکبیریں کہنے والا کہتا تو اس پر بھی کوئی نکیر نہ کی جاتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3097]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3097 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے جب وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے دریافت کیا: آپ اس (عرفہ کے) دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کیسے (ذکر و عبادت) کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے تہلیل کہنے والا «لا اله الا الله» کہتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تھا۔ اور تکبیریں کہنے والا کہتا تو اس پر بھی کوئی نکیر نہ کی جاتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3097]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1285 صحیح مسلم
سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: " سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن عقبہ نے کہا: مجھے محمد بن ابی بکر نے حدیث بیان کی کہا: میں نے عرفہ کی صبح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آپ اس دن میں تلبیہ پکارنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ سفر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی معیت میں کیا، تو ہم میں سے کچھ تکبیریں کہنے والے تھے اور کچھ «لا اله الا الله» کہنے والے۔ اور ہم میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی (کے عمل) پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3098]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3098 صحیح مسلم
سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: " سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن عقبہ نے کہا: مجھے محمد بن ابی بکر نے حدیث بیان کی کہا: میں نے عرفہ کی صبح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آپ اس دن میں تلبیہ پکارنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ سفر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی معیت میں کیا، تو ہم میں سے کچھ تکبیریں کہنے والے تھے اور کچھ «لا اله الا الله» کہنے والے۔ اور ہم میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی (کے عمل) پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3098]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة