سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: " سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن عقبہ نے کہا: مجھے محمد بن ابی بکر نے حدیث بیان کی کہا: میں نے عرفہ کی صبح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آپ اس دن میں تلبیہ پکارنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ سفر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی معیت میں کیا، تو ہم میں سے کچھ تکبیریں کہنے والے تھے اور کچھ «لا اله الا الله» کہنے والے۔ اور ہم میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی (کے عمل) پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3098]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة