بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا استحباب۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا استحباب۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 1270 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، وَعَمْرٌو ، هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبَاهُ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرٌو . ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں ابن وہب نے خبر دی، (کہا:) مجھے یونس اور عمرو نے خبر دی، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی، کہا: ابن وہب نے عمرو سے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے انہیں حدیث بیان کی، کہا: (ایک مرتبہ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمہیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمہیں (کبھی) بوسہ نہ دیتا۔ ہارون نے اپنی روایت میں (کچھ) اضافہ کیا، عمرو نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3067]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3067 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، وَعَمْرٌو ، هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبَاهُ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرٌو . ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں ابن وہب نے خبر دی، (کہا:) مجھے یونس اور عمرو نے خبر دی، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی، کہا: ابن وہب نے عمرو سے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے انہیں حدیث بیان کی، کہا: (ایک مرتبہ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمہیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمہیں (کبھی) بوسہ نہ دیتا۔ ہارون نے اپنی روایت میں (کچھ) اضافہ کیا، عمرو نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3067]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1270 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا: میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تھا وہ تجھے بوسہ دیتے تھے۔ (اس لیے میں بھی بوسہ دیتا ہوں) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3068]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3068 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا: میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تھا وہ تجھے بوسہ دیتے تھے۔ (اس لیے میں بھی بوسہ دیتا ہوں) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3068]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1270 صحیح مسلم
وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٍ ، خَلَفٌ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلهم عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ: خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَأَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ، وَأَبِي كَامِلٍ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں خلف بن ہشام، مقدمی، ابوکامل، اور قتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی، خلف نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے سر کے اگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے، یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا تھا، تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ مقدمی اور ابوکامل کی روایت میں (اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے) آگے سے چھوٹی سی گنج والے کو دیکھا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3069]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3069 صحیح مسلم
وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٍ ، خَلَفٌ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلهم عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ: خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَأَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ، وَأَبِي كَامِلٍ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں خلف بن ہشام، مقدمی، ابوکامل، اور قتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی، خلف نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے سر کے اگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے، یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا تھا، تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ مقدمی اور ابوکامل کی روایت میں (اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے) آگے سے چھوٹی سی گنج والے کو دیکھا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3069]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1270 صحیح مسلم
وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا، وہ فرما رہے تھے: بلاشبہ میں نے تجھے بوسہ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمہیں کبھی بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3070]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3070 صحیح مسلم
وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا، وہ فرما رہے تھے: بلاشبہ میں نے تجھے بوسہ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمہیں کبھی بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3070]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1271 صحیح مسلم
وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَكِيعٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ : قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے، اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3071]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3071 صحیح مسلم
وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَكِيعٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ : قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے، اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3071]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1271 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا، وَلَمْ يَقُلْ: وَالْتَزَمَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور کہا: لیکن میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔ انہوں نے وہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) اس سے چمٹ گئے کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3072]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3072 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا، وَلَمْ يَقُلْ: وَالْتَزَمَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور کہا: لیکن میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔ انہوں نے وہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) اس سے چمٹ گئے کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3072]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة