وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عُمَرَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا، وہ فرما رہے تھے: ”بلاشبہ میں نے تجھے بوسہ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمہیں کبھی بوسہ نہ دیتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3070]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة