وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٍ ، خَلَفٌ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلهم عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ: خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَأَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ، وَأَبِي كَامِلٍ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں خلف بن ہشام، مقدمی، ابوکامل، اور قتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی، خلف نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے سر کے اگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے، یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے: ”اللہ کی قسم! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا تھا، تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ مقدمی اور ابوکامل کی روایت میں (اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے) ”آگے سے چھوٹی سی گنج والے“ کو دیکھا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3069]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة