بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1256 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَنَسِيتُ اسْمَهَا: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا، وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ، وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ، قَالَ: " فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ ہمیں حدیث بیان کر رہے تھے۔ کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا۔۔۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا نام بتایا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں۔۔۔تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس بات نے روک دیا؟ اس نے جواب دیا: ہمارے پاس پانی ڈھونے والے دو ہی اونٹ تھے۔ ایک پر اس کے بیٹے کا والد (شوہر) اور بیٹا حج پر چلے گئے ہیں اور ایک اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہم اس پر پانی ڈھوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا کیونکہ اس (رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3038]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3038 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَنَسِيتُ اسْمَهَا: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا، وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ، وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ، قَالَ: " فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ ہمیں حدیث بیان کر رہے تھے۔ کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا۔۔۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا نام بتایا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں۔۔۔تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس بات نے روک دیا؟ اس نے جواب دیا: ہمارے پاس پانی ڈھونے والے دو ہی اونٹ تھے۔ ایک پر اس کے بیٹے کا والد (شوہر) اور بیٹا حج پر چلے گئے ہیں اور ایک اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہم اس پر پانی ڈھوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا کیونکہ اس (رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3038]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1256 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ سِنَانٍ: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانٍ زَوْجِهَا، حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَكَانَ الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا، قَالَ: " فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حبیب معلم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے جسے ام سنان کہا جاتا تھا کہا: تمہیں کس بات نے روکا کہ تم ہمارے ساتھ حج کرتیں؟ اس نے کہا: ابوفلاں۔۔۔اس کے خاوند۔۔۔کے پاس پانی ڈھونے والے دو اونٹ تھے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کیا اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی ڈھوتا تھا۔ آپ نے فرمایا: رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی) کو پورا کر دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3039]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3039 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ سِنَانٍ: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانٍ زَوْجِهَا، حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَكَانَ الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا، قَالَ: " فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حبیب معلم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے جسے ام سنان کہا جاتا تھا کہا: تمہیں کس بات نے روکا کہ تم ہمارے ساتھ حج کرتیں؟ اس نے کہا: ابوفلاں۔۔۔اس کے خاوند۔۔۔کے پاس پانی ڈھونے والے دو اونٹ تھے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کیا اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی ڈھوتا تھا۔ آپ نے فرمایا: رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی) کو پورا کر دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3039]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة