أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ سِنَانٍ: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانٍ زَوْجِهَا، حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَكَانَ الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا، قَالَ: " فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حبیب معلم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے جسے ام سنان کہا جاتا تھا کہا: ”تمہیں کس بات نے روکا کہ تم ہمارے ساتھ حج کرتیں؟“ اس نے کہا: ابوفلاں۔۔۔اس کے خاوند۔۔۔کے پاس پانی ڈھونے والے دو اونٹ تھے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کیا اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی ڈھوتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی) کو پورا کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3039]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة