بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حاجی کے لئے طواف قدوم اور اس کے بعد سعی کرنے کا استحباب۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: حاجی کے لئے طواف قدوم اور اس کے بعد سعی کرنے کا استحباب۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 1233 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، عَبْثَرٌ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، وَبَرَةَ ، ابْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ، أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابی خالد نے وبرہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا، اس نے پوچھا: کیا عرفات پہنچنے سے پہلے میں بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں (کر سکتے ہو) اس نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تو کہا ہے کہ عرفہ پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے جواب دیا: (سنو!) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب حج فرمایا تو آپ نے میدان عرفات پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف کیا تھا۔ (اب سوچو) کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قول اپناؤ یہ زیادہ حق ہے؟ یا یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول؟ اگر تم (ان کے بارے میں) سچ کہہ رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2997]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2997 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، عَبْثَرٌ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، وَبَرَةَ ، ابْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ، أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابی خالد نے وبرہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا، اس نے پوچھا: کیا عرفات پہنچنے سے پہلے میں بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں (کر سکتے ہو) اس نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تو کہا ہے کہ عرفہ پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے جواب دیا: (سنو!) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب حج فرمایا تو آپ نے میدان عرفات پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف کیا تھا۔ (اب سوچو) کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قول اپناؤ یہ زیادہ حق ہے؟ یا یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول؟ اگر تم (ان کے بارے میں) سچ کہہ رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2997]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1233 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، بَيَانٍ ، وَبَرَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟، فَقَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ؟، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلَانٍ يَكْرَهُهُ، وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ، رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ: وَأَيُّنَا أَوْ أَيُّكُمْ لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ: " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بیان نے وبرہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: میں نے حج کا احرام باندھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کر لوں؟ انہوں نے فرمایا: (ہاں) تمہیں کیا مانع ہے؟ اس نے کہا: میں نے ابن فلان (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتے ہیں اور آپ ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا نے انہیں فتنہ میں ڈال دیا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم میں سے کون یا تم میں سے کون۔ جسے دنیا نے فتنہ میں نہیں ڈالا؟ (تم ان پر دنیا داری کا اعتراض نہ کرو،) پھر فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، آپ نے حج کا احرام باندھا، بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی فرمائی، (اب سوچو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے کی پیروی کا زیادہ حق ہے۔ یا فلان کے راستے کا کہ اس کی اتباع کی جائے؟ اگر تم سچ کہہ رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2998]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2998 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، بَيَانٍ ، وَبَرَةَ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟، فَقَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ؟، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلَانٍ يَكْرَهُهُ، وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ، رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ: وَأَيُّنَا أَوْ أَيُّكُمْ لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ: " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بیان نے وبرہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: میں نے حج کا احرام باندھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کر لوں؟ انہوں نے فرمایا: (ہاں) تمہیں کیا مانع ہے؟ اس نے کہا: میں نے ابن فلان (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتے ہیں اور آپ ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا نے انہیں فتنہ میں ڈال دیا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم میں سے کون یا تم میں سے کون۔ جسے دنیا نے فتنہ میں نہیں ڈالا؟ (تم ان پر دنیا داری کا اعتراض نہ کرو،) پھر فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، آپ نے حج کا احرام باندھا، بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی فرمائی، (اب سوچو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے کی پیروی کا زیادہ حق ہے۔ یا فلان کے راستے کا کہ اس کی اتباع کی جائے؟ اگر تم سچ کہہ رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2998]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1234 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟، فَقَالَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو عمرہ کی غرض سے آیا، اس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا (لیکن ابھی) صفا مروہ کی سعی نہیں کی، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تھے تو آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں، اور (پھر) صفا مروہ کے درمیان سات بار چکر لگائے۔ اور (یاد رکھو) تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کے طریقے) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2999]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2999 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟، فَقَالَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو عمرہ کی غرض سے آیا، اس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا (لیکن ابھی) صفا مروہ کی سعی نہیں کی، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تھے تو آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں، اور (پھر) صفا مروہ کے درمیان سات بار چکر لگائے۔ اور (یاد رکھو) تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کے طریقے) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2999]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1234 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید اور ابن جریج دونوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے، سفیان بن عینیہ کی (گزشتہ) حدیث کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3000]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3000 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید اور ابن جریج دونوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے، سفیان بن عینیہ کی (گزشتہ) حدیث کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3000]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة