زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟، فَقَالَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو عمرہ کی غرض سے آیا، اس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا (لیکن ابھی) صفا مروہ کی سعی نہیں کی، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تھے تو آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں، اور (پھر) صفا مروہ کے درمیان سات بار چکر لگائے۔ اور (یاد رکھو) تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کے طریقے) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2999]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة