مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، مُطَرِّفًا ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟ "، يَعْنِي شَعْبَانَ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: " إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ، فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ "، شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِيهِ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ يَوْمَيْنِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے مطرف بن شخیر کے بھتیجے سے حدیث سنائی، کہا: میں نے مطرف کو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: ”کیا تم نے اس مہینے یعنی شعبان کے وسط (یا دوران) میں کچھ روزے رکھے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جب تم رمضان کے روزے ختم کر لو اس کے بعد ایک دن یا دو دن کے روزے رکھ لینا۔“ شعبہ نے۔۔۔ جن کو شک ہوا۔۔۔ کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے دو دن کے روزے کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2753]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة