بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: روزے کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم روزوں کے احکام و مسائل باب: روزے کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 1151 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2704]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2704 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2704]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1151 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ وَهُوَ الْحِزَامِيُّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزہ ایک ڈھال ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2705]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2705 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ وَهُوَ الْحِزَامِيُّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزہ ایک ڈھال ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2705]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1151 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ "، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے ابوصالح الزیات سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اور روزہ ڈھال ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور و غل کرے۔ اگر کوئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے! قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گی۔ اور روزہ دار کے لیے دو خوشی کے موقع ہیں، وہ ان دونوں پر خوش ہوتا ہے: جب وہ (روزہ) افطار کرتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب کو ملے گا تو اپنے روزے (کی وجہ) سے خوش ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2706]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2706 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ "، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے ابوصالح الزیات سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اور روزہ ڈھال ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور و غل کرے۔ اگر کوئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے! قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گی۔ اور روزہ دار کے لیے دو خوشی کے موقع ہیں، وہ ان دونوں پر خوش ہوتا ہے: جب وہ (روزہ) افطار کرتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب کو ملے گا تو اپنے روزے (کی وجہ) سے خوش ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2706]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1151 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے۔ نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک (بڑھا دی جاتی ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے (کیونکہ) وہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہیں: ایک خوشی اس کے (روزہ) افطار کرنے کے وقت کی اور (دوسری) خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2707]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2707 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے۔ نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک (بڑھا دی جاتی ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے (کیونکہ) وہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہیں: ایک خوشی اس کے (روزہ) افطار کرنے کے وقت کی اور (دوسری) خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2707]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1151 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِي سِنَانٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: " إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَرِحَ "، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن فضیل نے ابوسنان سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: بلاشبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ بلاشبہ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہیں: جب وہ (روزہ) افطار کرتا ہے خوش ہوتا ہے۔ اور جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا، خوش ہو گا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے! اللہ کے ہاں، روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2708]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2708 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِي سِنَانٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: " إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَرِحَ "، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن فضیل نے ابوسنان سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: بلاشبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ بلاشبہ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہیں: جب وہ (روزہ) افطار کرتا ہے خوش ہوتا ہے۔ اور جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا، خوش ہو گا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے! اللہ کے ہاں، روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2708]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1151 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَقَالَ: " إِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن مسلم نے کہا: ہمیں ضرار بن مرہ (ابوسنان) نے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی، کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کو اجر و ثواب عطا کرے گا تو وہ خوش ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2709]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2709 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَقَالَ: " إِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن مسلم نے کہا: ہمیں ضرار بن مرہ (ابوسنان) نے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی، کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کو اجر و ثواب عطا کرے گا تو وہ خوش ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2709]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1152 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک (ایسا) دروازہ ہے جسے ’الریان‘ کہا جاتا ہے، قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے ساتھ ان کے سوا کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ جب ان میں سے آخری (فرد) داخل ہو جائے گا، تو وہ (دروازہ) بند کر دیا جائے گا، اس کے بعد کوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2710]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2710 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک (ایسا) دروازہ ہے جسے ’الریان‘ کہا جاتا ہے، قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے ساتھ ان کے سوا کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ جب ان میں سے آخری (فرد) داخل ہو جائے گا، تو وہ (دروازہ) بند کر دیا جائے گا، اس کے بعد کوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2710]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة