بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہو جاتا ہے اور طلوع فجر تک کھانا وغیرہ جائز ہے، اور اس فجر (صبح کاذب) کا بیان جس میں روزہ شروع ہوتا ہے، اور اس فجر (صبح صادق) کا بیان جس میں صبح کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم روزوں کے احکام و مسائل باب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہو جاتا ہے اور طلوع فجر تک کھانا وغیرہ جائز ہے، اور اس فجر (صبح کاذب) کا بیان جس میں روزہ شروع ہوتا ہے، اور اس فجر (صبح صادق) کا بیان جس میں صبح کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1090 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حُصَيْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187، قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ: عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ، أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ، إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت «حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ» نازل ہوئی۔ تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لیے ہیں۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کر لیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سما گئے ہیں۔ وہ (دھاگا) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2533]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2533 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حُصَيْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187، قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ: عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ، أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ، إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت «حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ» نازل ہوئی۔ تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لیے ہیں۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کر لیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سما گئے ہیں۔ وہ (دھاگا) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2533]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1091 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ، فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 فَبَيَّنَ ذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
فضیل بن سلیمان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب یہ آیت «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ» نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ «مِنَ الْفَجْرِ» نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2534]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2534 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ، فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 فَبَيَّنَ ذَلِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
فضیل بن سلیمان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب یہ آیت «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ» نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ «مِنَ الْفَجْرِ» نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2534]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1091 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إسحاق ، ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَبُو غَسَّانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إسحاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ، رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الْأَبْيَضَ، فَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ، حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187، فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوغسان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ» نازل ہوئی تو بعض آدمی جب ان میں سے کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا تو اپنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ «مِنَ الْفَجْرِ» نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ و سفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2535]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2535 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إسحاق ، ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَبُو غَسَّانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إسحاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ، رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الْأَبْيَضَ، فَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ، حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187، فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوغسان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ» نازل ہوئی تو بعض آدمی جب ان میں سے کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا تو اپنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ «مِنَ الْفَجْرِ» نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ و سفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2535]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1092 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2536]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2536 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2536]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1092 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں۔ لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2537]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2537 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں۔ لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2537]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1092 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ: بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ "، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا، إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ تو رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2538]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2538 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ: بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ "، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا، إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ تو رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2538]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1092 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، الْقَاسِمُ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر، عبیداللہ، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2539]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2539 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، الْقَاسِمُ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر، عبیداللہ، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2539]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1092 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، إسحاق ، عَبْدَةُ ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ، عبدہ، حماد بن مسعدہ، سب نے عبیداللہ سے (پچھلی دونوں حدیثوں میں مذکور ان کی) سندوں کے ساتھ ابن نمیر کی حدیث کی طرح روایت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2540]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2540 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، إسحاق ، عَبْدَةُ ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ، عبدہ، حماد بن مسعدہ، سب نے عبیداللہ سے (پچھلی دونوں حدیثوں میں مذکور ان کی) سندوں کے ساتھ ابن نمیر کی حدیث کی طرح روایت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2540]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1093 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، أَوَ قَالَ: نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوَ قَالَ: يُنَادِي بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ، وَقَالَ: لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا، حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی پکار سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کے لیے لوٹ جائے۔ اور تم میں سے سونے والا جاگ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھا کیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایا: صبح اس طرح ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2541]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2541 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، أَوَ قَالَ: نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوَ قَالَ: يُنَادِي بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ، وَقَالَ: لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا، حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی پکار سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کے لیے لوٹ جائے۔ اور تم میں سے سونے والا جاگ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھا کیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایا: صبح اس طرح ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2541]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1093 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الْأَرْضِ، وَلَكِنْ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا، وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد احمر، سلیمان تیمی سے اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2542]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2542 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الْأَرْضِ، وَلَكِنْ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا، وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد احمر، سلیمان تیمی سے اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2542]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة