ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ: بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ "، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا، إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت بلال رضی اللہ عنہ تو رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔“ راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2538]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة