بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: خوارج کے قتل پر ابھارنے کے بارے میں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: خوارج کے قتل پر ابھارنے کے بارے میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 1066 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَكِيعٍ ، الْأَعْمَشُ ، خَيْثَمَةَ ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ الْأَشَجُّ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے حدیث بیان کی کہا اعمش نے ہمیں خیثمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سوید بن غفلہ سے روایت کی انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث سناؤں تو یہ بات کہ میں آسمان سے گر پڑوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کروں جو آپ نے نہیں فرمائی۔ اور جب میں تم سے اس معاملے میں بات کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس قول سے استشہاد کر سکتا ہوں کہ) جنگ ایک چال ہے (لیکن) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (بصراحت یہ) فرماتے ہوئے سنا: عنقریب (خلافت راشدہ کے) آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی وہ لوگ کم عمر اور کم عقل ہوں گے (بظاہر) مخلوق کی سب سے بہترین بات کہیں گے قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین کے اندر سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جس طرح تیر تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو ان کو قتل کر دینا جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2462]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2462 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَكِيعٍ ، الْأَعْمَشُ ، خَيْثَمَةَ ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ الْأَشَجُّ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے حدیث بیان کی کہا اعمش نے ہمیں خیثمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سوید بن غفلہ سے روایت کی انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث سناؤں تو یہ بات کہ میں آسمان سے گر پڑوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کروں جو آپ نے نہیں فرمائی۔ اور جب میں تم سے اس معاملے میں بات کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس قول سے استشہاد کر سکتا ہوں کہ) جنگ ایک چال ہے (لیکن) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (بصراحت یہ) فرماتے ہوئے سنا: عنقریب (خلافت راشدہ کے) آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی وہ لوگ کم عمر اور کم عقل ہوں گے (بظاہر) مخلوق کی سب سے بہترین بات کہیں گے قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین کے اندر سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جس طرح تیر تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو ان کو قتل کر دینا جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2462]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1066 صحیح مسلم
إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2463]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2463 صحیح مسلم
إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2463]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1066 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا " يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش سے جریر اور ابومعاویہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ان دونوں کی حدیث میں دین میں سے تیز رفتاری کے ساتھ یوں نکلیں گے جس طرح تیر نشانہ لگے شکار سے تیزی سے نکل جاتا ہے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2464]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2464 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا " يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش سے جریر اور ابومعاویہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ان دونوں کی حدیث میں دین میں سے تیز رفتاری کے ساتھ یوں نکلیں گے جس طرح تیر نشانہ لگے شکار سے تیزی سے نکل جاتا ہے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2464]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1066 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: ذَكَرَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: قُلْتُ: " آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قَالَ: " إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے محمد سے انہوں نے عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے خوارج کا ذکر کیا اور کہا: ان میں ایک آدمی ناقص چھوٹے یا زیادہ اور ہلتے ہوئے گوشت کے (جیسے) ہاتھ والا ہوگا اگر تمہارے اترانے کا ڈر نہ ہوتا تو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کرنے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے وعدہ فرمایا ہے وہ میں تمہیں بتاتا۔ (عبیدہ نے) کہا میں نے عرض کی: کیا آپ نے یہ (وعدہ براہ راست) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2465]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2465 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: ذَكَرَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: قُلْتُ: " آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قَالَ: " إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے محمد سے انہوں نے عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے خوارج کا ذکر کیا اور کہا: ان میں ایک آدمی ناقص چھوٹے یا زیادہ اور ہلتے ہوئے گوشت کے (جیسے) ہاتھ والا ہوگا اگر تمہارے اترانے کا ڈر نہ ہوتا تو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کرنے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے وعدہ فرمایا ہے وہ میں تمہیں بتاتا۔ (عبیدہ نے) کہا میں نے عرض کی: کیا آپ نے یہ (وعدہ براہ راست) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2465]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1066 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، قَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن عون نے محمد سے اور انہوں نے عبیدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا میں تمہیں صرف وہی بیان کروں گا جو میں نے ان (علی رضی اللہ عنہ) سے سنا ہے پھر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایوب کی حدیث کی طرح مرفوع حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2466]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2466 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، قَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن عون نے محمد سے اور انہوں نے عبیدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا میں تمہیں صرف وہی بیان کروں گا جو میں نے ان (علی رضی اللہ عنہ) سے سنا ہے پھر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایوب کی حدیث کی طرح مرفوع حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2466]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1066 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ، مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى رَأْسِ عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ، فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ، وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ "، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا، حَتَّى قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا، وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ، فَرَجَعُوا فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَسَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ، فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى نَاسًا، قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ: أَخِّرُوهُمْ فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلِلَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب جہنی ؒ نے حدیث سنائی کہ وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا (اور) خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ (اس طرح) قرآن پڑھیں گے کہ تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمہاری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمہارے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیز رفتاری کے ساتھ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے۔ اگر وہ لشکر جو ان کو جا لے گا جان لے کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے (بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر) بھروسا کر لیں۔ اس (گروہ) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہوگا جس کا عضد (بازو، کندھے سے لے کر کہنی تک کا حصہ) ہوگا کلائی نہیں ہوگی اس کے بازو کے سرے پر پستان کی نوک کی طرح (کا نشان) ہوگا جس پر سفید بال ہوں گے تو لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کی طرف جا رہے ہو اور ان (لوگوں) کو چھوڑ رہے ہو جو تمہارے بعد تمہارے بچوں اور اموال پر آپڑیں گے اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ وہی قوم ہے کیونکہ انہوں نے (مسلمانوں کا) حرمت والا خون بہایا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر غارت گری کی ہے اللہ کا نام لے کر (ان کی طرف) چلو۔ سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب نے (ایک ایک) منزل میں اتارا (ہر منزل کے بارے میں تفصیل سے) بتایا حتیٰ کہ بتایا: ہم ایک پل پر سے گزرے پھر جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس روز خوارج کا سپہ سالار عبداللہ بن وہب راسی تھا اس نے ان سے کہا: اپنے نیزے پھینک دو اور اپنی تلواریں نیاموں سے نکال لو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمہارے سامنے (صلح کے لیے اللہ کا نام) پکاریں گے جس طرح انہوں نے خروراء کے دن تمہارے سامنے پکارا تھا تو انہوں نے لوٹ کر اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں تو لوگ انہی نیزوں کے ساتھ ان پر پل پڑے اور وہ ایک دوسرے پر قتل ہوئے (ایک کے بعد دوسرا آتا اور قتل ہو کر پہلوں پر گرتا) اور اس روز (علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینے والے) لوگوں میں سے دو کے سوا کوئی اور قتل نہ ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ان میں ادھورے ہاتھ والے کو تلاش کرو لوگوں نے بہت ڈھونڈا لیکن اس کو نہ پا سکے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو قتل ہو کر ایک دوسرے پر گرے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ان کو ہٹاؤ تو انہوں نے اسے (لاشوں کے نیچے) زمین سے لگا ہوا پایا۔ آپ نے اللہ اکبر کہا پھر کہا: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اسی طرح ہم تک) پہنچا دیا۔ (زید بن وہب نے) کہا عبیدہ سلمانی کھڑے ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہوئے اور کہا اے امیر المومنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! آپ نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! حتیٰ کہ اس نے آپ سے تین دفعہ قسم لی اور آپ اس کے سامنے حلف اٹھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2467]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2467 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ، مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى رَأْسِ عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ، فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ، وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ "، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا، حَتَّى قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا، وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ، فَرَجَعُوا فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَسَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ، فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى نَاسًا، قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ: أَخِّرُوهُمْ فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلِلَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب جہنی ؒ نے حدیث سنائی کہ وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا (اور) خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ (اس طرح) قرآن پڑھیں گے کہ تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمہاری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمہارے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیز رفتاری کے ساتھ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے۔ اگر وہ لشکر جو ان کو جا لے گا جان لے کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے (بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر) بھروسا کر لیں۔ اس (گروہ) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہوگا جس کا عضد (بازو، کندھے سے لے کر کہنی تک کا حصہ) ہوگا کلائی نہیں ہوگی اس کے بازو کے سرے پر پستان کی نوک کی طرح (کا نشان) ہوگا جس پر سفید بال ہوں گے تو لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کی طرف جا رہے ہو اور ان (لوگوں) کو چھوڑ رہے ہو جو تمہارے بعد تمہارے بچوں اور اموال پر آپڑیں گے اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ وہی قوم ہے کیونکہ انہوں نے (مسلمانوں کا) حرمت والا خون بہایا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر غارت گری کی ہے اللہ کا نام لے کر (ان کی طرف) چلو۔ سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب نے (ایک ایک) منزل میں اتارا (ہر منزل کے بارے میں تفصیل سے) بتایا حتیٰ کہ بتایا: ہم ایک پل پر سے گزرے پھر جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس روز خوارج کا سپہ سالار عبداللہ بن وہب راسی تھا اس نے ان سے کہا: اپنے نیزے پھینک دو اور اپنی تلواریں نیاموں سے نکال لو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمہارے سامنے (صلح کے لیے اللہ کا نام) پکاریں گے جس طرح انہوں نے خروراء کے دن تمہارے سامنے پکارا تھا تو انہوں نے لوٹ کر اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں تو لوگ انہی نیزوں کے ساتھ ان پر پل پڑے اور وہ ایک دوسرے پر قتل ہوئے (ایک کے بعد دوسرا آتا اور قتل ہو کر پہلوں پر گرتا) اور اس روز (علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینے والے) لوگوں میں سے دو کے سوا کوئی اور قتل نہ ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ان میں ادھورے ہاتھ والے کو تلاش کرو لوگوں نے بہت ڈھونڈا لیکن اس کو نہ پا سکے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو قتل ہو کر ایک دوسرے پر گرے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ان کو ہٹاؤ تو انہوں نے اسے (لاشوں کے نیچے) زمین سے لگا ہوا پایا۔ آپ نے اللہ اکبر کہا پھر کہا: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اسی طرح ہم تک) پہنچا دیا۔ (زید بن وہب نے) کہا عبیدہ سلمانی کھڑے ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہوئے اور کہا اے امیر المومنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! آپ نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! حتیٰ کہ اس نے آپ سے تین دفعہ قسم لی اور آپ اس کے سامنے حلف اٹھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2467]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1066 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالُوا: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، قَالَ عَلِيٌّ : كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ، يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ، وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ، مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْيٍ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْظُرُوا فَنَظَرُوا، فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا، فَقَالَ: ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ، زَادَ يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ ذَلِكَ الْأَسْوَدَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوطاہر اور یونس بن عبدالاعلی دونوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے عمرو بن حارث نے بکیر اشج سے خبر دی انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبید اللہ سے روایت کی کہ جب حروریہ نے خروج کیا اور وہ (عبید اللہ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا حکومت اللہ کے سوا کسی کی نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کی صفات بیان کیں میں ان لوگوں میں ان صفات کو خوب پہچانتا ہوں (آپ نے فرمایا): وہ اپنی زبانوں سے حق بات کہیں گے اور وہ (حق) ان کی اس جگہ۔۔۔ آپ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ سے آگے نہیں بڑھے گا یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہیں ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہوگا اس کا ایک ہاتھ بکرکے تھن یا نوک پستان کی طرح ہوگا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو قتل کیا ڈھونڈو۔ لوگوں نے ڈھونڈا تو انہیں کچھ نہ ملا فرمایا دوبارہ تلاش کرو اللہ کی قسم! میں نے جھوٹ نہیں بولا اور نہ مجھے جھوٹ بتایا گیا دو یا تین دفعہ (یہی فقرہ) کہا پھر انہوں نے اسے ایک کھنڈر میں پا لیا تو وہ اسے لے آئے یہاں تک کہ اسے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ عبید اللہ نے کہا: میں بے شک ان کے اس معاملے میں اور ان کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات کے وقت حاضر تھا۔ یونس نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: بکیر نے کہا مجھے (عبداللہ) بن حنین (ہاشمی) سے ایک آدمی نے حدیث بیان کی اس نے کہا میں نے بھی اس کا لاش کو دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2468]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2468 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالُوا: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، قَالَ عَلِيٌّ : كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ، يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ، وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ، مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْيٍ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْظُرُوا فَنَظَرُوا، فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا، فَقَالَ: ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ، زَادَ يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ ذَلِكَ الْأَسْوَدَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوطاہر اور یونس بن عبدالاعلی دونوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے عمرو بن حارث نے بکیر اشج سے خبر دی انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبید اللہ سے روایت کی کہ جب حروریہ نے خروج کیا اور وہ (عبید اللہ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا حکومت اللہ کے سوا کسی کی نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کی صفات بیان کیں میں ان لوگوں میں ان صفات کو خوب پہچانتا ہوں (آپ نے فرمایا): وہ اپنی زبانوں سے حق بات کہیں گے اور وہ (حق) ان کی اس جگہ۔۔۔ آپ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ سے آگے نہیں بڑھے گا یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہیں ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہوگا اس کا ایک ہاتھ بکرکے تھن یا نوک پستان کی طرح ہوگا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو قتل کیا ڈھونڈو۔ لوگوں نے ڈھونڈا تو انہیں کچھ نہ ملا فرمایا دوبارہ تلاش کرو اللہ کی قسم! میں نے جھوٹ نہیں بولا اور نہ مجھے جھوٹ بتایا گیا دو یا تین دفعہ (یہی فقرہ) کہا پھر انہوں نے اسے ایک کھنڈر میں پا لیا تو وہ اسے لے آئے یہاں تک کہ اسے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ عبید اللہ نے کہا: میں بے شک ان کے اس معاملے میں اور ان کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات کے وقت حاضر تھا۔ یونس نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: بکیر نے کہا مجھے (عبداللہ) بن حنین (ہاشمی) سے ایک آدمی نے حدیث بیان کی اس نے کہا میں نے بھی اس کا لاش کو دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2468]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة