بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2467 — باب: خوارج کے قتل پر ابھارنے کے بارے میں۔
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: خوارج کے قتل پر ابھارنے کے بارے میں۔ حدیث 2467
حدیث نمبر: 2467 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ، مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى رَأْسِ عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ، فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ، وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ "، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا، حَتَّى قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا، وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ، فَرَجَعُوا فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَسَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ، فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى نَاسًا، قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ: أَخِّرُوهُمْ فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلِلَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب جہنی ؒ نے حدیث سنائی کہ وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا (اور) خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ (اس طرح) قرآن پڑھیں گے کہ تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمہاری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمہارے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیز رفتاری کے ساتھ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے۔ اگر وہ لشکر جو ان کو جا لے گا جان لے کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے (بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر) بھروسا کر لیں۔ اس (گروہ) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہوگا جس کا عضد (بازو، کندھے سے لے کر کہنی تک کا حصہ) ہوگا کلائی نہیں ہوگی اس کے بازو کے سرے پر پستان کی نوک کی طرح (کا نشان) ہوگا جس پر سفید بال ہوں گے تو لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کی طرف جا رہے ہو اور ان (لوگوں) کو چھوڑ رہے ہو جو تمہارے بعد تمہارے بچوں اور اموال پر آپڑیں گے اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ وہی قوم ہے کیونکہ انہوں نے (مسلمانوں کا) حرمت والا خون بہایا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر غارت گری کی ہے اللہ کا نام لے کر (ان کی طرف) چلو۔ سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب نے (ایک ایک) منزل میں اتارا (ہر منزل کے بارے میں تفصیل سے) بتایا حتیٰ کہ بتایا: ہم ایک پل پر سے گزرے پھر جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس روز خوارج کا سپہ سالار عبداللہ بن وہب راسی تھا اس نے ان سے کہا: اپنے نیزے پھینک دو اور اپنی تلواریں نیاموں سے نکال لو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمہارے سامنے (صلح کے لیے اللہ کا نام) پکاریں گے جس طرح انہوں نے خروراء کے دن تمہارے سامنے پکارا تھا تو انہوں نے لوٹ کر اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں تو لوگ انہی نیزوں کے ساتھ ان پر پل پڑے اور وہ ایک دوسرے پر قتل ہوئے (ایک کے بعد دوسرا آتا اور قتل ہو کر پہلوں پر گرتا) اور اس روز (علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینے والے) لوگوں میں سے دو کے سوا کوئی اور قتل نہ ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ان میں ادھورے ہاتھ والے کو تلاش کرو لوگوں نے بہت ڈھونڈا لیکن اس کو نہ پا سکے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو قتل ہو کر ایک دوسرے پر گرے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ان کو ہٹاؤ تو انہوں نے اسے (لاشوں کے نیچے) زمین سے لگا ہوا پایا۔ آپ نے اللہ اکبر کہا پھر کہا: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اسی طرح ہم تک) پہنچا دیا۔ (زید بن وہب نے) کہا عبیدہ سلمانی کھڑے ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہوئے اور کہا اے امیر المومنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! آپ نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! حتیٰ کہ اس نے آپ سے تین دفعہ قسم لی اور آپ اس کے سامنے حلف اٹھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2467]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2466) باب پر واپس اگلی حدیث (2468) →