بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صدقہ کو چھپا کر دینے کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: صدقہ کو چھپا کر دینے کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1031 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ سے روایت ہے کہا: مجھے خبیب بن عبدالرحمٰن نے حفص بن عاصم سے خبر دی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں سایہ مہیا کرے گا جس دن کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا عدل کرنے والا حکمران اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھا اور وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے اور ایسے دو آدمی جنہوں نے اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی اسی پر اکٹھے ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے اور ایسا آدمی جسے مرتبے اور حسن والی عورت نے (گناہ کی) دعوت دی تو اس (آدمی) نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کا بایاں ہاتھ جو کچھ خرچ کر رہا ہے اسے دایاں نہیں جانتا اور وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2380]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2380 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ سے روایت ہے کہا: مجھے خبیب بن عبدالرحمٰن نے حفص بن عاصم سے خبر دی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں سایہ مہیا کرے گا جس دن کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا عدل کرنے والا حکمران اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھا اور وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے اور ایسے دو آدمی جنہوں نے اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی اسی پر اکٹھے ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے اور ایسا آدمی جسے مرتبے اور حسن والی عورت نے (گناہ کی) دعوت دی تو اس (آدمی) نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کا بایاں ہاتھ جو کچھ خرچ کر رہا ہے اسے دایاں نہیں جانتا اور وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2380]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1031 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَقَالَ: " وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ، إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے خبیب بن عبدالرحمان سے انہوں نے حفص بن عاصم سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ۔۔۔ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔۔۔ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (آگے) جس طرح عبید اللہ کی حدیث ہے اور انہوں نے (ایسا آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے کے بجائے) کہا: «رجل معلق بالمسجد اذا خرج منه حتي يعود اليه» وہ آدمی جب مسجد سے نکلتا ہے تو اسی کے ساتھ معلق رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2381]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2381 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَقَالَ: " وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ، إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے خبیب بن عبدالرحمان سے انہوں نے حفص بن عاصم سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ۔۔۔ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔۔۔ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (آگے) جس طرح عبید اللہ کی حدیث ہے اور انہوں نے (ایسا آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے کے بجائے) کہا: «رجل معلق بالمسجد اذا خرج منه حتي يعود اليه» وہ آدمی جب مسجد سے نکلتا ہے تو اسی کے ساتھ معلق رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2381]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة