زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ سے روایت ہے کہا: مجھے خبیب بن عبدالرحمٰن نے حفص بن عاصم سے خبر دی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں سایہ مہیا کرے گا جس دن کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا عدل کرنے والا حکمران اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھا اور وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے اور ایسے دو آدمی جنہوں نے اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی اسی پر اکٹھے ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے اور ایسا آدمی جسے مرتبے اور حسن والی عورت نے (گناہ کی) دعوت دی تو اس (آدمی) نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کا بایاں ہاتھ جو کچھ خرچ کر رہا ہے اسے دایاں نہیں جانتا اور وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2380]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة